ہجر جمیل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۱
عین اُسی وقت وہ خدا سے محبت نہیں کر سکتا۔ جس دل کے اندر انسانوں کے بارے میں شکایات بھری ہوئی ہوں وہ دل کبھی خدا کے شکر سے سرشار نہیں ہو سکتا۔ جس آدمی کا سینہ انتقامی نفسیات کا جنگل بنا ہوا ہو، وہ خدا سے طلب عفو کی لذت کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ جو انسان ظلم کی یادوں میں جی رہا ہو، وہ خدائے رحمن و رحیم کی یادوں کا تجربہ نہیں کر سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ صبر اور حسن اعراض مومن کے لیے ایک خود حفاظتی تدبیر ہے۔ یہ اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ اُس کے سینے میں غیر مومنانہ نفسیات کی پرورش ہونے لگے۔ اس لیے جب بھی ایسا کوئی موقع پیش آتا ہے تو مومن کہہ اُٹھتا ہے کہ میں اس قسم کی منفی سوچ کا تحمّل نہیں کر سکتا۔ یہاں اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے رسول اور اصحاب رسول کی زندگی سے حسن اعراض کی کچھ عملی مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
1۔ ابن اسحق کی روایت ہے کہ قدیم مکہ کے قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتے تھے اور سبّ و شتم کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذمم رکھ دیا تھا۔ محمد کا مطلب ہے، تعریف کیا ہوا۔ اس کے بجائے وہ آپ کو مذمم (ندمت کیا ہوا) کہتے تھے۔ روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: ألا تعجبون لما يصرف الله عني من أذى قريش، يسبون ويهجون مذمما، وأنا محمد (سیرت ابن ہشام 1/356)۔ یعنی کیا تم کو تعجب نہیں کہ اللہ نے مجھے قریش کی اذیت سے کس طرح بچا لیا، وہ سبّ و شتم کرتے ہیں اور مذمم کہہ کر ہجو کرتے ہیں، حالانکہ میں محمد ہوں۔
پیغمبر اسلام کے اس قول کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مثلاً قریش اگر یہ کہیں کہ ’’مذمم مجنون ہے‘‘ تو رسول اللہ اس کا بُرا اثر نہ لیتے ہوئے یہ کہہ دیں گے کہ تمہاری یہ بات اُس کے اوپر پڑے گی جس کا نام مذمم ہو، میرا نام تو محمد ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک لطیف مثال ہے۔ اس طرح مومن اپنے آپ کو اس نقصان سے بچاتا ہے کہ کسی کی بدگوئی اُس کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔ مومن کا قول یہ ہوتا ہے کہ میں منفی جذبات کا تحمّل نہیں کر سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues