با مقصد انسان کا کردار
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۱
عام انسان کو صرف یہ معلوم رہتا ہے کہ قانون کے مطابق ، اُس کا حق کیا ہے۔ اس کے برعکس با مقصد انسان قانونی حق اور منطقی انصاف سے بلند ہو کر یہ سوچتا ہے کہ میرے لیے اپنے مقصد اعلیٰ کو حاصل کرنے کا مفید طریقہ کیا ہے۔ سوچ میں اس فرق کی بنا پر ، عام انسان لوگوں کے ساتھ زر اور زمین کا جھگڑا کرتا رہتا ہے ، کیونکہ اس کے سوا اُس کا اور کوئی نشانہ حیات نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس با مقصد انسان کا نظریہ ، حضرت مسیح کے الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ ، کوئی تمہاراکرتا لینا چاہے تو اُس کو اپنا پُنچھ بھی دے دو۔ یعنی دنیوی چیزوں کے معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو فوراً ایک طرفہ قربانی کے ذریعہ اُس نزاع کو ختم کر دو، تا کہ مقصد کی طرف تمہارا سفر کسی خلل کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ اس طرح کے نزاعی معاملات میں عام انسان کا قول یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنا حق کیوں چھوڑیں ، ہم انصاف سے دست بردار کیوں ہوں۔ مگر با مقصد انسان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ دنیوی حق کو لینے کی کوشش میں وہ ربانی حق سے محروم ہو جائے گا۔ دنیوی انصاف کو حاصل کرنے کی لڑائی میں وہ آخرت کے انصاف کی میزان میں اپنے آپ کو بے قیمت کر لے گا۔ سوچنے کا یہی فرق دونوں کے عمل میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔ ایک، دنیا کی خاطر آخرت کو گنوا دیتا ہے، اور دوسرا، آخرت کی خاطر دنیا کو۔
☆☆☆☆☆
سوئیزلینڈ یورپ کے تقریباً درمیان میں ہے اس کے چاروں طرف فرانس ، جرمنی ، اٹلی اور آسٹریا واقع ہیں۔ وہ افغانستان کی طرح ایک محصور ملک (landlocked country) ہے۔ مگر سوئیزلینڈ دورِ جدید کا ایک اعلیٰ ترقی یافتہ ملک ہے جہاں ہر طرف امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہے۔ جب کہ افغانستان برعکس طور پر ایک ایسا تباہ ملک بنا ہوا ہے جہاں خود افغانیوں کے لئے اتنی کم کشش ہے کہ وہ پہلی فرصت میں بھاگ کر دوسرے ملکوں میں چلے جاتے ہیں۔ اس فرق کا راز ایک لفظ میں استحکام (stability) ہے، اور سماجی اور سیاسی استحکام کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔ وہ شعوری ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ حاصل ہونے والا ایک واقعہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues