اجتہاد کیا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۲
اجتہاد کیا ہے
اجتہاد کے لفظی معنیٰ ہیں بھر پور کوشش کرنا۔ شریعت میں یہ لفظ اس فکری کوشش کے لئے بولا جاتا ہے جب کہ نئے حالات کے اندر قرآن و سنت کی روشنی میں دین کا از سر نو انطباق (re-application) معلوم کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ اجتہاد احکام کے استنباط کے سلسلہ میں ایک اہم اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات اور زمانہ کی تبدیلی سے بار بار ایسی صورتیں پیش آتی ہیں جب کہ دین کی اصل روح کو برقرار رکھتے ہوئے نئے حالات میں ان کا از سر نو انطباق تلاش کیا جائے۔
اجتہاد کا یہ عمل اسلام کی تاریخ میں مسلسل جاری رہا ہے، پیغمبر کی زندگی میں بھی اور پیغمبر کی وفات کے بعد بھی۔ مگر اسلام کی بعد کی صدیوں میں ایسا ہوا کہ بعض اسباب سے اجتہاد کا یہ عمل زیادہ تر جزئی مسائل تک محدود ہو کر رہ گیا۔ کُلّی یا بنیادی نوعیت کے مسائل میں اجتہاد کا یہ عمل حقیقی طور پر جاری ہی نہ ہوسکا۔
اس معاملہ کی ایک مثال وہ ہے جو قرآن کی آیت: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، خلافتِ راشدہ کے بعد بنو امیہ کی حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے دمشق کو اپنا دار السلطنت بنایا۔ اس زمانہ میں عبداللہ بن زبیر (وفات 73ھ) نے حجاز میں اپنی علیحدہ خلافت قائم کر لی۔ یہ خلافت نو سال تک باقی رہی۔ بنو امیہ کے گورنر الحجاج سے ان کا ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ کے وقت ان کے قریبی افراد نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ وہ تنہا لڑتے ہوئے حجاج کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس واقعہ کو اسلام کی تاریخ میں فتنہ ابن الزبیر کہا جاتا ہے۔ جس زمانہ میں یہ جنگ ہو رہی تھی، عبد اللہ بن عمر (وفات 73ھ) موجود تھے۔ مگر وہ اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ ابن الزبیر کے کچھ حامی ان کے پاس گئے اور انہیں عار دلاتے ہوئے کہا کہ آپ اس جنگ میں شامل ہو کر کیوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues