لائن آف ایکشن کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۰
بار صرف یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا ووٹ اپنے عدم اتحاد کی بنا پر منتشر ہو جاتا ہے۔ مذکورہ سیاسی مقصد حاصل کرنے کے بجائے مسلمان صرف یہ کرتے ہیں کہ وہ ہر ایکشن کے موقع پر تقسیم ہو کر ووٹ کی طاقت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ الیکشن ان کے ووٹوں کا ایک سیاسی قبرستان بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی معاملہ جمعیۃ علماء ہند کا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے تقریباً ہر موقع پر یہ لائحہ عمل پیش کیا ہے کہ مسلمان ایسا طریق کار نہ اختیار کریں جس میں ہندو اور مسلم کے درمیان ٹکراؤ کی فضا بنے۔ اس کے بجائے وہ خاموش تدبیر اور تعمیری اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے اپنا مسئلہ حل کریں۔ مگر ہر بار یہی ہوا ہے کہ مسلمان جمعیۃ علماء ہند کے بتائے ہوئے اس لائحہ عمل کو اختیار نہیں کر پاتے۔ گویا لائحہ عمل موجود ہے مگر لائحہ عمل کی قبولیت اور پیروی موجود نہیں۔
اس فہرست میں کسی قدر فرق کے ساتھ خود الرسالہ مشن کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ الرسالہ مشن کے تحت مسلمانوں کے سامنے نہایت واضح اور مدلل انداز میں 1976 سے یہ لائحہ عمل پیش کیا جا رہا ہے کہ مسلمان کا اصلی اور ابدی مشن دعوت ہے۔ اس ملک میں مسلمان اور برادران وطن کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے اپنے اس فریضہ کو پہچانیں۔ وہ دعوت کے آداب اور دعوت کی حکمتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس ملک میں دین حق کی پر امن پیغام رسانی کا کام انجام دیں۔ مگر ربع صدی سے زیادہ مدت تک مسلسل جد و جہد کے باوجود ابھی تک مسلمانوں کی صرف ایک محدود تعداد ہی نے اس راہ عمل کو عملاً اختیار کیا ہے۔ یہ طویل تجربہ بتا تا ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ راہ عمل کی غیر موجودگی نہیں ہے بلکہ جذبہ قبولیت کی غیر موجودگی ہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے درمیان حقیقی کام کا آغاز صرف یہ نہیں ہو سکتا کہ تقریر یا تحریر کی صورت میں ایک راہ عمل یا لائن آف الیکشن کا اعلان کر دیا جائے ۔ موجودہ حالات میں اس کے لیے شعوری تعمیر اور ذہنی بیداری کی ایک مسلسل جد و جہد کی ضرورت ہے۔ پہلے شعوری اعتبار سے لوگوں میں مادہ قبولیت پیدا کیجئے، اُس کے بعد ہی راہ عمل کے اعلان کا کوئی مفید عملی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے، اس کے بغیر ہر گز نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues