لائن آف ایکشن کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۹
ہو سکے۔ یہاں تک کہ خود مسلم مجلس مشاورت بے اثر ہو کر رہ گئی۔
یہی معاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (1972) کا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بانی قائدین کے زمانہ میں متفقہ طور پر تعمیر ملت اور اصلاح معاشرہ کی تجویز پاس کی۔ اس پر کافی حد تک وہ کام بھی ہوا جس کو پیپر ورک کہا جاتا ہے۔ مگر یہ لائحہ عمل بھی مسلمانوں کے درمیان عملی قبولیت حاصل نہ کر سکا۔
اس طرح کچھ مسلم قائدین نے 1951 میں وہ تحریک شروع کی جو پیام انسانیت کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان خود انسانی اقدار کو اپنائیں اور برادران وطن کو انسانی اقدار کی پیروی کی دعوت دیں۔ مگر جلسوں کی وقتی دھوم دھام کے علاوہ اس کا بھی کوئی عملی نتیجہ نہیں نکلا۔ انسانی اقدار کی پیروی کی فضا نہ مسلمانوں میں قائم ہوسکی اور نہ غیر مسلموں میں۔ اسی طرح 1900 میں بابری مسجد کے نام پر جلسہ اور جلوس اور ریلی کے زبردست ہنگامے شروع ہوئے۔ یہ سلسلہ پورے ملک میں جاری ہو گیا۔ اس تحریک کے مسلم لیڈروں نے یہ نعرہ دیا کہ مسلمان لاکھوں کی تعداد میں مارچ کر کے اجودھیا پہنچیں اور حملہ آوروں کے مقابلہ میں بابری مسجد کی حفاظت کریں۔ مگر اس مقصد کے لئے نہ چھوٹا مارچ ہوا اور نہ بڑا مارچ۔ یہاں تک کہ حملہ آور کسی مزاحمت کے بغیر 6 دسمبر 1992 کو اجودھیا میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے بابری مسجد کے ڈھانچہ کو توڑ کر اس کی جگہ ایک عارضی رام مندر (makeshift temple) تعمیر کر دیا۔ اسی طرح کچھ ممتاز مسلم لیڈروں نے یہ لائحہ عمل دیا کہ مسلمان اس ملک میں باعزت زندگی اس طرح حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ اینٹی ووٹ کی طاقت کو اپنی مسلم پارٹیوں کو ہرانے کے لئے استعمال کریں۔ انہوں نے مسلمانوں کو ایک اردو شاعر کا یہ شعر سنایا:
حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے اگر کانٹوں میں ہو خوئے حریری ہر بار جب اسمبلی اور پارلیمنٹ کا الیکشن ہوتا ہے تو وہ وقت آتا ہے جب کہ مسلمان اس لائحہ عمل کو اختیار کر کے مفروضہ اینٹی مسلم پارٹیوں کو ہرائیں اور مفروضہ پرو مسلم پارٹیوں کو جتائیں۔ مگر ہر
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues