Al-Risala · October 2017 · page 43

ذہنی سکون

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۳

والا ہی نہیں۔

دوسرا حل وہ ہے جو خاص طور سے یوگا کے مبلغین کی طرف سے بتایا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت سے میڈیٹیشن سینٹر قائم کیے ہیں۔ یہاں دھیان اور میڈیٹیشن کے ذریعہ لوگوں کو ذہنی سکون کی تربیت دی جاتی ہے۔ اُن کا طریقہ یہ ہے کہ مخصوص مراقبہ کے ذریعہ انسانی ذہن میں سوچ کے عمل کو معطل کر دیا جائے تاکہ وہ پریشانی کو شعوری طور پر محسوس کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ مگر اس قسم کا ذہنی سکون حقیقتاً ذہنی تنخیر (mental anesthesia) کے ہم معنی ہے ۔ یہ انسان کی اعلیٰ فکری صلاحیت کو کند کر کے اس کو بے حس حیوان کی سطح پر پہنچا دینا ہے۔ اس قسم کا ذہنی سکون، اگر بالفرض حاصل بھی ہو جائے تب بھی وہ یقینی طور پر غیر مطلوب چیز ہے۔ کیوں کہ جو چیز انسان کی اعلیٰ فکری صلاحیت کو دبا دے۔ وہ گویا انسان کو کوما (coma) کی حالت میں پہنچانا ہے۔ ایسا ذہنی سکون انسانی موت ہے، نہ کہ انسانی زندگی۔

میڈیٹیشن (meditation) کا یہ طریقہ فطرت کے نظام کی تردید ہے۔ فطرت نے انسان کو جو سب سے اعلیٰ چیز دی ہے وہ اس کا دماغ (mind) ہے۔ فطرت کے نقشے کے مطابق، دماغ کے لئے پریشانیوں کا پیش آنا کوئی برائی کی بات نہیں۔ یہ دراصل زحمت میں رحمت (blessing in disguise) ہے۔ فطرت نے انسان کی ذہنی ترقی کے لئے شاک ٹریٹمنٹ کا طریقہ رکھا ہے۔ ایسی حالت میں شاک ٹریٹمنٹ کے عمل کو ختم کرنا انسان کی ذہنی ترقی کے دروازہ کو بند کرنا ہے۔ اس اعتبار سے یہ طریقہ فطرت کے نظام کے خلاف ہے اور جو چیز فطرت کے نظام کے خلاف ہو وہ اپنے آپ قابل رد ہو جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ذہنی پریشانی (mental tension) کے مسئلے کا حل ذہنی پریشانی کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو مینج (manage) کرنا ہے۔ فکری تدبیر کے ذریعہ اس کو اس طرح غیر مؤثر کر دینا ہے کہ وہ عملاً تو انسان کے لئے پیش آئے ، مگر وہ انسان کے ذہنی سکون کو برہم (disturb) نہ کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues

Printed page