ذہنی سکون
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۴
اس معاملے کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ دہلی میں ایک 30 سالہ نوجوان ہیں جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں مینیجر ہیں۔ ان کو وہاں 75 ہزار روپیہ مہینہ ملتا ہے، اور دوسری سہولتیں حاصل ہیں۔ مگر چونکہ ان کمپنیوں میں ہائر اینڈ فائر کا اصول ہے، اس لئے وہ ہمیشہ ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہمیشہ سروس سے محرومی کا اندیشہ (fear of losing one’s job) ستاتا رہتا ہے، نہ دن کو سکون رہتا ہے اور نہ رات کو۔ میں نے انہیں سمجھایا اور کہا کہ میں آپ کو ایک فارمولا دیتا ہوں، اگر آپ اس کو پکڑ لیں تو آپ کا ذہنی سکون کبھی برہم ہونے والا نہیں— ایک شخص آپ کا روزگار چھین سکتا ہے مگر وہ کبھی آپ کی قسمت کو آپ سے چھین نہیں سکتا: One can take away your job. But no one has the power to take away your destiny. مذکورہ نوجوان نے اس فارمولا کو پکڑ لیا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ ملے، اور انہوں نے کہا کہ اب مجھے پوری طرح ذہنی سکون حاصل ہو گیا ہے۔ اب میں اطمینان کے ساتھ سوتا ہوں، اور اطمینان کے ساتھ دن گزارتا ہوں۔ اسی طرح ہر آدمی اپنی ذہنی پریشانی کو پنچ کر کے اس کو ڈیفیوز (defuse) کر سکتا ہے۔ وہ ذہنی پریشانیوں کے باوجود ذہنی سکون کی زندگی حاصل کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اپنی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں سے محروم ہوا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا دماغ اٹھاہ صلاحیتوں کا خزانہ ہے۔ تمام ذہنی پریشانیوں کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال نہ کر سکنا۔ اسی طرح تمام ذہنی پریشانیوں کا حل بھی صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروقت استعمال کر لینا۔ ایک بڑے شہر کے ایک تاجر ہیں۔ انہوں نے ایک سامان (production) تیار کیا۔ اس میں انہوں نے پچاس لاکھ روپے لگا دیئے۔ سامان جب تیار ہوا تو اس کے بعد اچانک مارکیٹ میں اس کا دام بہت گر گیا۔ مجبوراً انہیں اپنے سامان کو گودام میں رکھ دینا پڑا۔ اس حادثہ کا اُن پر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ وہ بیمار پڑ گئے۔ ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا۔ راتوں کی نیند غائب ہو گئی۔ وہ اعصابی کمزوری کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues