Al-Risala · October 2017 · page 45

ذہنی سکون

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۵

شکار ہو گئے۔

اُن سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں سمجھایا۔ میں نے کہا کہ آپ اس معاملہ کو صرف حال(present)کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ آپ اپنی اس سوچ کو بدلیے اور معاملہ کو مستقبل(future)کے اعتبار سے دیکھنا شروع کر دیجیے۔ آپ سادہ طور پر صرف اتنا کیجیے کہ اس معاملہ کو انتظار کے خانہ میں ڈال دیجیے۔ انہوں نے میری نصیحت پکڑلی۔ اس کے تقریباً دو سال بعد اُن کا خط آیا جس میں انہوں نے خوشی کے ساتھ لکھا تھا کہ میرا تمام سامان نفع کے ساتھ فروخت ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز کا انحصار سوچنے کے طریقہ پر ہے۔ اگر آپ ایک طریقہ سے سوچیں تو آپ کا ذہن ایک ڈھنگ کا بنے گا اور اگر آپ دوسرے طریقہ سے سوچیں تو آپ کا ذہن دوسرے ڈھنگ پر کام کرنے لگے گا۔ اس طرح ہر مایوسی کو اعتماد میں بدلا جاسکتا ہے اور ہر یسی در دسر کو کس نے کہا ہے ؟ | و ہاں ت دمت کین، وہی ا س کی ، پست ہمتی کو بلند ہمتی میں ۔

قرآن میں پیغمبر کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے: وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (25:52) ۔ یعنی تم ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ ظاہر ہے کہ جہاد کبیر کے لئے قوت کبیر درکار ہے۔ آپ کسی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم پنسل کے ذریعہ بڑی لڑائی کرو۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کی نظر میں قرآن خود ایک بڑی طاقت ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بڑا جہاد کرو بڑی طاقت کے ذریعہ جیسا کہ قرآن ہے:

Do great jihad with the great power that is the Quran. اس سے مزید یہ نکلتا ہے کہ نظریہ کی طاقت تمام طاقتوں سے زیادہ بڑی طاقت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کا حکم دینے کا کوئی مطلب نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ نظریاتی طاقت سیاسی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے :

Ideological power is greater than political power.

‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues

Printed page