سجدہ دورِ آخر میں
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۲
سجدہ دورِ آخر میں
آخری زمانے کے بارے میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا تقوم الساعة حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها (موارد الظمآن، حدیث نمبر 1888)۔ یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک یہ حال نہ ہو جائے کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر بن جائے۔ اس حدیث میں سجدہ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ حقیقی سجدہ کے معنی میں ہے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آخری زمانے میں مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوں گی، جب کہ وہ ہدایت سے خالی ہوں گی (شعب الایمان، حدیث نمبر 1763)۔ اس لیے مذکورہ حدیث میں سجدہ لفظی معنی میں نہیں ہوسکتا، بلکہ یہاں سجدہ کا لفظ اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے ہے۔ حقیقی سجدہ وہ ہے، جو سجدہ کی اسپرٹ سے بھرا ہوا ہو۔ اس میں آدمی اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگے۔ آخری زمانے میں لوگ اس قسم کے سجدہ سے محروم ہو جائیں گے۔ اس کا سبب یہ ہوگا کہ اس وقت لوگوں کا سب سے بڑا کنسرن سجدہ نہیں رہے گا، بلکہ مادی انٹرسٹ ان کا سب سے بڑا کنسرن بن جائے گا، وہ رسمی طور پر بظاہر سجدہ کریں گے، لیکن ان کا دل اللہ کے علاوہ کہیں اور اٹکا ہوا ہوگا۔ بظاہر زمین پر وہ اپنا سر رکھیں گے، لیکن ان کے دل میں نہ اللہ کی محبت ہوگی، اور نہ اللہ کا خوف ہوگا۔
یہ زمانہ عظیم فتنے کا زمانہ ہوگا۔ ایسی حالت میں سچا سجدہ صرف اس شخص کو حاصل ہوگا جو اپنی سوچ کے اعتبار سے اپنے آپ کو زمانے سے اوپر اٹھائے۔ جو بھلانے والی چیزوں سے الگ ہو کر اللہ کو یاد کر سکے۔ جو جالی تزئینات کا پردہ پھاڑ کر اللہ کو دریافت کرے۔ جو اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ اس کا سجدہ رسمی سجدہ نہ ہو، بلکہ وہ ایک عارفانہ سجدہ بن جائے۔ ایسے حالات میں جو شخص سچا سجدہ کرے، اس کا سجدہ بلا شبہ اس کے لیے سب سے بڑے خیر کا سبب بن جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues