دل کی بیماری
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۳
دل کی بیماری
قرآن میں ایک نفسیاتی حقیقت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے : فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ۖ وَّلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ (2:10)۔ یعنی ان کے دلوں میں روگ ہے تو اللہ نے ان کے روگ کو بڑھا دیا۔ اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔ اس آیت میں قلبی مرض سے مراد نفاق ہے۔ نفاق کوئی پراسرار چیز نہیں۔ وہ فطرت کا ایک ظاہر ہ ہے، جو ہمیشہ اور ہر امت میں پیدا ہوتا ہے۔ نفاق کسی مخصوص قوم کی اجارہ داری نہیں۔
اصل یہ ہے کہ کسی امت کی پہلی نسل اخلاص پر کھڑی ہوتی ہے، لیکن امت کی بعد کی نسلوں میں دھیرے دھیرے اخلاص کمزور یا ختم ہو جاتا ہے۔ اب امت کے لیے ان کا دین تاریخی بڑائی (historical glory) کی چیز بن جاتا ہے۔ وہ دین کو اپنے لیے فخر کا عنوان بنا لیتے ہیں۔ امت کے افراد کی یہ نفسیات اس میں مانع ہوتی ہے کہ وہ اپنی کمزوری کا اعتراف کرے۔ وہ اپنی قلبی کمزوری کو خوبصورت الفاظ کے ذریعہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی حالت کا نام نفاق ہے۔ نفاق کا اصل مفہوم چھپانا ہے۔ اسی لیے سرنگ کو نَفَق کہتے ہیں ۔ یہ لفظ جنگلی چوہے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جو خطرہ کے وقت اپنے آپ کو بل میں چھپا لیتا ہے۔ انسان کی نسبت سے جب یہ لفظ بولا جائے تو اس سے مراد دہرا کردار (double standard) ہے۔ یعنی ایسا انسان جو حقیقت کے اعتبار سے دین سے دور ہو گیا ہو، لیکن خوبصورت الفاظ کے ذریعہ اپنے آپ کو دیندار بتائے۔ دوسرے الفاظ میں حقیقت کے فقدان کی تلافی خوبصورت الفاظ کے ذریعہ کرنا۔ منافقت کا مزاج کسی انسان کے اندر کیوں پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ اس کے اندر اسلام کی اسپرٹ باقی نہ ہو، لیکن ظاہری نوعیت کے کچھ عمل کا اظہار کر کے وہ اس بات کی کوشش کرے کہ وہ پورے معنوں میں اسلام پر قائم ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues