Al-Risala · November 2017 · page 27

دین میں عقل کا استعمال

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۷

جب آدمی غلطی کرتا ہے تو ابتداءاً غلطی کا شعور اس کے زندہ حافظہ (living memory) میں ہوتا ہے۔ اس وقت آدمی اگر اپنا محاسبہ (introspection) کرے تو ابتدائی مرحلہ میں آدمی اپنی غلطی کو شدت کے ساتھ محسوس کرے گا، اور جلد ہی وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرلے گا۔

لیکن اگر آدمی محاسبہ میں دیر کرے۔ تو اس کے بعد غلطی کا احساس اس کے زندہ شعور سے گزر کر اس کے دماغ کے اس حصہ میں چلا جائے گا، جس کو تحت شعور کہا جاتا ہے۔ اب غلطی کے بارے میں اس کے اندر حساسیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ آدمی نے اگر اب بھی اپنا محاسبہ نہیں کیا تو اس کے بعد تیسرا درجہ یہ آتا ہے کہ غلطی کا احساس آدمی کے لاشعور میں چلا جاتا ہے۔ اس تیسرے درجے کو پہنچنے کے بعد آدمی کے اندر غلطی کے بارے میں کامل غفلت کا دور آ جاتا ہے۔ اسی کو قرآن میں طولِ امد سے قساوت کا پیدا ہونا بتایا گیا ہے (الحدید: 16)۔ اسی نفسیاتی تجزیے کا دوسرا نام دین کے معاملے میں عقل کا استعمال کرنا ہے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک اور آیت قرآنی کا مطالعہ کیجیے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے : اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو (49:2)۔

اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ صرف پیغمبر کی فضیلت یا پیغمبر کے معاملے میں ادب کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ اصلا وہ دین خداوندی کے اعتبار سے ہے۔ حبطِ اعمال کا یہ واقعہ پیغمبر کی مجلس میں بھی پیش آ سکتا ہے، اور پیغمبر کی مجلس کے باہر بھی۔ اصل یہ ہے کہ جب دین خداوندی کی کوئی بات ہو تو انسان کو چاہیے کہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ وہ اس کو سنے۔ اگر وہ اس کو ایک غیر اہم بات کی طرح سنے گا تو دھیرے دھیرے وہ اس معاملے میں قساوت کا شکار ہو جائے گا، اور پھر بے شعوری کے اس درجے پر پہنچ جائے گا، جب کہ اس کے لیے اپنی اصلاح کرنا ہی ممکن نہ رہے۔ ایسے آدمی کا یہ انجام اس لیے ہوگا کہ اس نے قانون فطرت کے مطابق پہلے مرحلہ میں اپنا محاسبہ نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues

Printed page