مدح، تنقید
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۸
مدح، تنقید
احادیث میں کثرت سے یہ تلقین کی گئی ہے کہ تم کسی کی مدح نہ کرو۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : إذا رأيتم المداحين، فاحثوا في وجوههم التراب (صحیح مسلم، حدیث نمبر 3002) یعنی جب تم مدح کرنے والوں کو دیکھو تو اُن کے منہ پر مٹی ڈال دو۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يثني علي رجل ويطريه في مدحه، فقال: فقال:أہلکتم أو قطعتم ظهر الرجل (صحیح بخاری، حدیث نمبر (2663)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کر رہا ہے اور اُس کی تعریف میں وہ مبالغہ کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس شخص کو ہلاک کر دیا یا یہ فرمایا کہ تم نے اُس کی کمر توڑ دی۔ اسی طرح خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ میں ایک روایت میں آیا ہے کہ انہوں نے کہا : المدح الذبح (الادب المفرد، حدیث نمبر 336) یعنی مدح کرنا آدمی کو ذبح کرنا ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی تعریف کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے کہا: عقر ت الرجل عقرک اللہ (الأدب المفرد، حدیث نمبر 335) یعنی تم نے اُس شخص کو ذبح کر دیا، اللہ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی کرے ۔
حدیث اور آثار کی کتابوں میں اس طرح کی بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ مدح کا طریقہ دینی مزاج کے خلاف ہے۔ بعض اوقات اعتراف واقعہ یا اور کسی مصلحت سے کسی کی تعریف کی جا سکتی ہے۔ مگر عمومی طور پر اسلام میں اُس چیز کو سخت نا پسند کیا گیا ہے جس کو مدح خوانی یا قصیدہ گوئی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی تعریف مادح کے لیے مصلحت پرستی ہے اور ممدوح کے لیے اُس کو عجُب کی غذا دینا ہے۔ اس لیے یہ فعل مادح اور ممدوح دونوں کے لیے ہلاکت خیز ہے۔
تاہم یہ بات قابلِ غور ہے کہ احادیث میں تعریف کی مذمت تو کی گئی ہے مگر تنقید کی مذمت
‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues