امید کا سر چشمہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۵
امید کا سر چشمہ
قرآن وحدیث میں کئی ایسی آیتیں اور حدیثیں ہیں جو بندوں کے لیے امید کا سر چشمہ ہیں۔ ان میں سے چند حوالے یہ ہیں۔ اس قسم کی ایک آیت قرآن میں یہ ہے: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ اس آیت کے بارے میں علی ابن ابی طالب کہتے ہیں: ما فی القرآن آية أوسع من هذه الآية۔ یعنی قرآن میں اس سے زیادہ گنجائش والی کوئی اور آیت نہیں۔ عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں: هذه أرجى آية في القرآن۔ یعنی یہ قرآن کی سب سے زیادہ امید والی آیت ہے۔ عبداللہ ابن عباس ایک اور آیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ قرآن میں سب سے زیادہ امید والی آیت (أرجى آية في القرآن) ہے ۔ وہ آیت یہ ہے : وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَى ظُلْمِهِمْ (13:6) یعنی تمہارا رب لوگوں کے ظلم کے باوجود ان کو معاف کرنے والا ہے۔ دیکھیے تفسیر القرطبی، القرطبی،القاھرۃ، 1969، 15/269۔
اس مضمون کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے : عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لما قضى الله الخلق كتب في كتابه فهو عنده فوق العرش إن رحمتي غلبت غضبي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3194)۔ یعنی حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جب مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی کتاب میں لکھا۔ یہ کتاب اللہ کے پاس عرش کے اوپر ہے۔ (اس میں اللہ نے یہ لکھا ہے): میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔
اس طرح کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں، جن سے براہ راست یا بالواسطه طور پر معلوم
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues