Al-Risala · December 2017 · page 6

امید کا سر چشمہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۶

ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نہایت رحم و درگزر کا معاملہ کرنے والا ہے۔ یہ بات اللہ رب العالمین کی شان کے مطابق ہے۔ اللہ رب العالمین نے انسان کو آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ اس لیے اللہ کی شانِ رحمت کا تقاضا تھا کہ انسان کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ عفو و درگزر کا معاملہ کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک جو چیز سب سے زیادہ ناقابل معافی ہے، وہ سرکشی ہے۔ یہی وہ چیز ہے، جو حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر (صحیح مسلم، حدیث نمبر 147)۔ وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا، جس کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو۔ اس کے مقابلے میں جو آدمی عجز کا ثبوت دے، جو اپنے آپ کو انانیت (ego) سے خالی انسان بنائے۔ اس کے بارے میں اللہ سے قوی امید ہے کہ اللہ رب العالمین اس کے ساتھ رحمت اور مغفرت کا معاملہ کرے گا۔

اصل یہ ہے کہ جب ایک شخص کے اندر تواضع (modesty) پائی جائے تو غلطی کرنے کے بعد وہ تڑپ اٹھتا ہے۔ وہ عجز سے بھری ہوئی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے قول اور عمل میں انکساری کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ برتری کے جذبے سے مکمل طور پر خالی ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ ایک نئی شخصیت اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ پورے معنوں میں ایک مزکی انسان بن جاتا ہے۔ یہ تبدیلی جو اس کی شخصیت کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ یہی دراصل وہ چیز ہے، جو اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ اس سے عفو و درگزر کا معاملہ کرتے ہوئے، اس کو جنت میں داخلہ دیا جائے۔

جنت اس کے لیے ہے جو جنتی کردار والی شخصیت لے کر آخرت میں پہنچے۔ جنت سے محرومی اور جنت کا ملنا، دونوں کا تعلق کردار (character) سے ہے۔ یہی وہ اصل چیز ہے جو کسی انسان کے لیے آخرت میں کامیابی یا ناکامی کا سبب ہے۔ جنت سے محرومی بھی معلوم اسباب کی بنا پر ہوگی، اور جنت کا پانا بھی معلوم اسباب کی بنا پر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues

Printed page