عالی شان مسجدیں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۸
عالی شان مسجدیں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ایک ان الفاظ میں آئی ہے: ما أمرت بتشييد المساجد- قال ابن عباس : لتزخر فنها كما زخرفت اليهود والنصاری (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 448) ۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے بلند و بالا مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ (اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد عبداللہ ابن عباس نے کہا کہ تم لوگ ضرور مسجدوں کو مزین کروگے جس طرح یہود اور نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں کو مزین کیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ نے کہا کہ جب بھی کسی قوم کا عمل بگڑ جائے، تو وہ اپنی مسجدوں کو مزین کرنا شروع کر دیتی ہے ۔ (ما ساء عمل قوم قط، إلا زخرفوا مساجدہم) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 741 یہ پیشین گوئی موجودہ زمانہ میں ایک واقعہ بن چکی ہے، اور ہر ملک میں اس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں ۔ جہاں بھی کچھ مسلمان آباد ہیں وہاں عالی شان مسجدیں بنائی جارہی ہیں۔ کہیں قصر نما، کہیں قلعہ نما، اور کہیں تاج محل نما۔ شاندار مساجد تعمیر کرنے کا یہ کام امریکہ اور یورپ میں مزید اضافہ کے ساتھ ہورہا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلہ میں وہاں زیادہ بہتر تکنیکی سہولتیں حاصل ہیں۔ یہاں یہ سوال ہے کہ عالیشان مسجدیں بنانے کو اسلام میں کیوں ناپسند کیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسجدوں کی عالیشان تعمیرات امت کے روحانی زوال کی علامت ہیں ۔ کیوں کہ جب روح (اسپرٹ) ختم ہوتی ہے تو اس کی تلافی کے لیے مظاہر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
عالیشان مسجدوں کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ نمود و نمائش والی دینداری کی علامت ہیں۔ شاندار عمارتوں میں نمود و نمائش کے جذبہ کو بے حد تسکین ملتی ہے وہ شکست خوردہ نفسیات کے لئے عظمت و فخر کی تسکین کا سامان ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی عام نفسیات یہ ہے کہ انہوں نے پولیٹیکل گلوری کو کھو دیا ہے۔ ایسی حالت میں درودیوار کی عظمت انہیں یہ فرضی تسکین دیتی ہے کہ اب بھی انہوں نے زمین پر اپنی عظمت کا نشان قائم کر رکھا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues