Al-Risala · December 2017 · page 7

امید کا سر چشمہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۷

ایک حدیث

ایک روایت سنن ابی داؤد (کتاب الجہاد) اور مسند امام احمد میں آئی ہے۔ البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عجب الله من قوم يدخلون الجنة في السلاسل (صحيح البخاری، حدیث نمبر3010)۔ یعنی اللہ ان پر متعجب ہوتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں (بندھے ہوئے) داخل ہوں گے۔ بعض دوسری روایتوں میں یقادون اور یساقون کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی وہ کھینچتے ہوئے اور ہانکتے ہوئے لے جائے جائیں گے۔

اس حدیث میں کچھ اہل ایمان کے ساتھ جس معاملہ کا ذکر ہے وہ آخرت میں پیش آنے والا معاملہ اُنہیں ہے بلکہ آخرت سے پہلے اسی دنیا میں پیش آنے والا معاملہ ہے۔ یہاں زنجیر کا لفظ دراصل مجبور کن حالات (compulsive situation) کی تعبیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے ساتھ ایسے مجبورانہ حالات پیش آئیں گے کہ اُن کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہے گا کہ وہ خدا پرستی اور آخرت پسندی کی زندگی اختیار کریں اور اس طرح گویا بندھے بندھے جنت میں پہنچ جائیں۔

یہ خوش قسمتی اُن افراد کے حصہ میں آئے گی جن کے دل میں اخلاص اور حسن نیت کی چنگاری موجود ہو۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کے دل میں اس قسم کی استعداد دیکھے گا اُن کی قدر افزائی اس طرح کرے گا کہ اُن کے لیے ایسے حالات پیدا کر دے گا جو نہیں طوعاً و کر ہاً خدا پرستانہ اعمال کی طرف لے جانے والے ہوں۔ مصیبت کا جنتی زنجیر بن جانا اُس شخص کے حصہ میں آتا ہے جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ مصیبت کے وقت اللہ کی طرف رجوع کرے ۔ مصیبت جس کے دل کو اس طرح نرم کرے کہ وہ اللہ کی یاد کرنے والا بن جائے۔ مصیبت اگر لوگوں کے اندر فریاد اور شکایت کا ذہن بنائے تو مصیبت صرف تباہی ہے، اور اگر مصیبت لوگوں کے اندر محاسبہ خویش کا ذہن پیدا کرے تو وہ اُن کے لیے رحمت کا سبب بن جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues

Printed page