مثل قرآن
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۱
مثل قرآن
ایک لمبی روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے: ألا إني أوتيت الكتاب ومثله معه، ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه، ألا يوشك رجل ينثني شبعانا على أريكته يقول: عليكم بالقرآن، فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه، وما وجدتم فيه من حرام فحرموه (مسند احمد، حدیث نمبر 17174)۔ یعنی سن لو، بیشک مجھے کتاب دی گئی ہے اور اسی کے ساتھ اس کے مثل۔ بیشک مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کے مثل۔ سن لو، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھا، کہے گا کہ تمہارے لیے قرآن کافی ہے، پس تم اس میں جو حلال پاؤ تو اسے حلال سمجھو اور جو اس میں تم حرام پاؤ تو اسے حرام سمجھو۔ اس حدیث میں مثل سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں حکمت (البقرۃ: 129) کہا گیا ہے، یعنی قرآن اور حکمت قرآن۔ حکمت سے مراد وزڈم (wisdom) ہے۔ قرآن کا ابتدائی مفہوم اس کے متن (text) کو پڑھ کر سمجھ میں آتا ہے، اور جہاں تک حکمت کا تعلق ہے، وہ تدبر (ص: 29) کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے: كان متواصل الأحزان، دائم الفكرة، ليست له راحة، طويل السكت، لا يتكلم في غير حاجة (شرح السنة للبغوی، حدیث نمبر 3705)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل حُزن میں رہتے تھے، وہ برابر سوچ میں رہتے، آپ کے لیے کوئی راحت نہیں ہوتی تھی، آپ دیر تک چپ رہتے، ضرورت کے سوا کسی اور چیز کے لیے آپ نہ بولتے۔ مذکورہ روایت میں پانچ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ پانچوں الفاظ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ مسلسل طور پر تدبر اور تفکر میں رہتے تھے۔ حُزن سے مراد غم نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد کامل سنجیدگی (total seriousness) ہے۔ یعنی ہر وقت انتہائی سنجیدگی کے ساتھ سوچتے رہنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues