مثل قرآن
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۲
مثلاً قرآن کی 29 سورتوں کے آغاز میں وہ حروف آئے ہیں، جن کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے۔ یہ حروف الگ الگ پڑھے جاتے ہیں، اسی لیے ان کو حروف مقطعات (disjointed letters or disconnected letters) کہا جاتا ہے۔ حروف مقطعات عربی زبان کے حروف تہجی (alphabets) پر مشتمل ہیں۔ اس سے مراد غالباً یہ ہے کہ قرآن اگرچہ بظاہر انسانی زبان میں اترا ہے، اس اعتبار سے اس کا ایک مطلب وہ ہے جو سطور میں ہے، لیکن اس کا دوسرا مطلب وہ ہے جو تدبر کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں آیا ہے: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تا کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اگر عربی زبان سے بخوبی واقف ہو، اور وہ قرآن کو پڑھے تو قرآن کے متن کے سطور (lines) میں جو بات ہے، اس کو وہ جان لے گا۔ لیکن قرآن کے جو عمیق معانی ہیں، وہ متن کے بین السطور (between the lines) ہیں۔ ان عمیق معانی کو جاننے کا ذریعہ صرف تدبر ہے۔ اگر آدمی حقیقی معنوں میں سنجیدہ اور ہدایت کا طالب ہوتے ہوئے قرآن میں غور وفکر کرے تو وہ قرآن کے گہرے معانی کو دریافت کرلے گا۔ وہ متن قرآن کے اندر چھپی ہوئی حکمت کی دریافت تک پہنچ جائے گا۔
مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ کو مشن کے معاملے میں صراط مستقیم کی ہدایت (الفتح: 2) ملی۔ قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو مذکورہ ہدایت کہیں الفاظ (وحی متلو) کی صورت میں نہیں ملے گی۔ پھر رسول اللہ کو اس ہدایت کی معرفت کیسے ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معرفت آپ کو تدبر کے ذریعہ حاصل ہوئی۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہدایت یہ تھی وکٹمائزڈ کمیونٹی (victimized community) کے جذبات (sentiments) کو لے کر اپنی پلاننگ نہ کرنا، بلکہ وسیع تر دنیا میں جو مواقع (opportunities) ہیں، ان کو لے کر اپنے عمل کا پلان بنانا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues