ایک سنتِ رسول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۴
ایک سنتِ رسول
سن چھ ہجری میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فریق مخالف سے امن کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدے کی دفعات طے ہو گئیں، اور ان کو کاغذ پر لکھا جانے لگا تو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کو لکھاتے ہوئے کہا : اكتب يا علي، هذا ما صالح عليه محمد رسول اللہ ۔ فریق ثانی کے لیڈر نے فوراً اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔ آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھیے، جو کہ ہمارے اور آپ کے درمیان مشترک ہے۔ آپ نے بلا بحث کہا: امح یا علي، اللهم إنك تعلم أني رسولك، امح يا علي واكتب، هذا ما صالح علیه محمد بن عبد اللہ (مسند احمد، حدیث نمبر (3187)۔ یعنی اے علی، اس کو مٹا دو۔ اے اللہ، تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں۔ اے علی، مٹا دو اور لکھو، یہ وہ (دفعات) ہیں جن پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کیا۔ اس کے بعد صلح کا معاہدہ طے پا گیا، اور آپ اپنے اصحاب کے همراه مدینہ واپس آگئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاملہ بلا شبہ اللہ کی رہنمائی کے مطابق تھا۔ اللہ کی رہنمائی کے بغیر آپ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ سورہ الفتح میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں : وَيَهْدِيَكَ صِرَاطاً مُسْتَقِيماً (48:2)۔ آپ کا یہ عمل بلا شبہ صراطِ مستقیم کا ایک جز ء تھا۔ اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ابدی اصول ہے۔ جس طرح دور اول میں اصول کو اختیار کرنے کے نتیجے میں فتح مبین (48:1) حاصل ہوئی۔ بعد کے دور میں بھی فتح مبین کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ مسلمانوں کو فتح مبین تک پہنچانے والا نہیں۔ منصوبہ بندی کا یہ طریقہ ہمیشہ دنیا میں باقی رہتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں اہل ایمان یہ چاہتے ہیں کہ ان کو یہ آزادی ہو کہ وہ قرآن کا پیغام ساری دنیا میں کھلے طور پر پہنچائیں۔ لیکن بار بار ایک رکاوٹ پیش آتی ہے۔ وہ یہ کہ آج کا انسان، اظہارِ رائے کی آزادی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues