ایک سنتِ رسول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۵
(freedom of expression) کو انسان کا ایک مطلق حق (absolute right) سمجھتا ہے، اور اس کو وہ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ حق کے اس استعمال کا دائرہ کبھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام کے بارے میں آزادانہ اظہار خیال کرتا ہے، اور اس کو اپنا نا قابل تنسیخ حق سمجھتا ہے۔ مسلمان اس طرح کے واقعات پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ وہ اس کو شتم رسول (blasphemy) قرار دے کر چاہتے ہیں کہ شاتم کو قتل کر دیں۔ آج کے لوگوں کے لیے مسلمانوں کی یہ روش قابل قبول نہیں۔ چناں چہ اس پر سخت نزاع شروع ہو جاتی ہے۔ اور دعوت اسلام کا کام جیو پرڈائز (jeopardize) ہو جاتا ہے۔
شتم رسول (blasphemy) پر ہنگامہ کرنا یا شاتم کو قتل کرنے کی کوشش کرنا، اصولاً اسلام کے خلاف ہے۔ قرآن کی کسی آیت یا رسول کے کسی قول میں یہ حکم موجود نہیں۔ تاہم بالفرض اگر کسی کا اصرار ہو کہ یہ اسلام کا ایک حکم ہے تب بھی ضروری ہے کہ مسلمان اس طرح کے واقعے پر مشتعل ہونا مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ تا کہ دعوت اسلام کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ رسول کا رسول ہونا بلا شبہ اسلام کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے۔ پھر بھی رسول اور اصحاب رسول نے رسول اللہ کے لفظ کو کاغذ سے مٹا دیا۔ اسی سنت پر مسلمانوں کو بھی عمل کرنا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اپنی روش کو بدل دیں تا کہ اسلام کا پر امن مشن کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ اسی روش کا نام حکمت (wisdom) ہے۔ حکمت، اسلام کا ایک لازمی اصول ہے۔ حکمت کے بغیر اسلام کا مشن کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رہ سکتا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
میرا عام تجربہ ہے کہ اسکولر لوگوں میں فکری ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے، جب کہ مذہبی لوگوں میں اس طرح فکری ارتقاء نہیں ہوتا۔ مذہبی طبقہ کے لوگ عام طور پر ذہنی ٹھہراؤ کا شکار رہتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا رہا ہوں کہ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سیکولر لوگوں میں مسلسل فری ڈائیلاگ جاری رہتا ہے جب کہ مذہبی لوگوں میں فری ڈائیلاگ کا عمل جاری نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues