جامع تعبیر تاریخ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۸
انسانی تاریخ کی بامعنی تعبیر (meaningful interpretation) میں صرف ایک چیز لوگوں کے لیے رکاوٹ بنتی ہے۔ وہ یہ کہ اکثر لوگ اپنے خود ساختہ معیار (self-styled criterion) سے انسانی تاریخ کو جانچتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انسانی تاریخ کو خالق کے مقرر کردہ معیار کی روشنی میں دیکھا جائے۔ ایسا کرنے کی صورت میں پوری تاریخ ایک بامعنی تاریخ بن جائے گی۔ اصل یہ ہے کہ انسانی دنیا اور مادی دنیا میں ایک بنیادی فرق ہے۔ مادی دنیا فطرت کے لازمی قوانین کے تحت چل رہی ہے۔ اس لیے فطرت کو سمجھنے کا ایک معلوم حتمی معیار موجود ہے۔ اس معیار کو برطانی سائنسدان نیوٹن نے فطرت کے مطالعہ پر کامیابی کے ساتھ منطبق کیا، اس کا انطباق (application) درست ثابت ہوا۔ لیکن انھیں قوانین کو کمیونزم کے بانی کارل مارکس نے انسانی تاریخ پر منطبق کرنا چاہا تو وہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ خالق نے انسان کو استثنائی طور پر سوچنے اور عمل کرنے کی آزادی عطا کی ہے۔ اس بنا پر انسانی تاریخ کا واحد غیر متغیر نقشہ نہیں بن سکتا۔ انسانی تاریخ کے مطالعے میں یہ کرنا ہوگا کہ اس کے متعلق حصہ (relevant part) کو غیر متعلق حصہ (irrelevant part) سے الگ کیا جائے۔ یعنی تاریخ کے مختلف اجزاء کو سارٹ آؤٹ (sort out) کر کے دیکھا جائے، غیر متعلق اجزاء کو الگ کر کے متعلق اجزاء کی روشنی میں انسانی تاریخ کی تصویر بنائی جائے۔ اس عمل کے بغیر تاریخ کی بامعنی تعبیر نہیں کی جاسکتی۔ قرآن کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی تا کہ انسان فطرت کے قوانین کا مطالعہ کرے، اور ایک تہذیب وجود میں لائے۔ یہ کام اکیسویں صدی میں اپنی تکمیل تک پہنچ چکا۔ اب دوسرا کام یہ ہے کہ آلاء الله (الرحمن: 13) پر مبنی ایک برتر ربانی تہذیب کی تشکیل دی جائے ۔ اس برتر تہذیب کو وہ لوگ وجود میں لا سکتے ہیں، جنھوں نے موجودہ دنیا میں اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا ہو۔ آخرت کی دنیا میں پوری تاریخ سے ایسے تیار شدہ اشخاص (prepared personalities) کو منتخب کر کے جنت کی عظیم دنیا میں جمع کر دیا جائے گا۔ تا کہ وہ اگلی برتر تہذیب میں زندگی گزاریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues