Al-Risala · December 2017 · page 17

جامع تعبیر تاریخ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۷

رب العالمین نے تقریباً تیرہ بلین سال پہلے موجودہ کائنات کی تخلیق کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے اس نے پارٹیکلس (particles) یعنی اجزاء کائنات کی تخلیق کی۔ پارٹیکلس کا یہ مجموعہ ابتداء میں ایک عظیم کاسمک بال (cosmic ball) کی صورت میں خلا میں ظاہر ہوا۔ پھر اس کا سمک بال میں انفجار (explosion) ہوا۔ اس کے بعد تمام ستارے اور کہکشائیں (galaxies) وجود میں آئیں۔ دوسرے مرحلہ میں شمسی نظام بنا۔ پھر شمسی نظام کا ایک سیارہ زمین (planet earth) اپنی موجودہ شکل میں وجود میں آیا۔ اس سیارہ زمین پر پانی، نباتات، اور حیوانات وجود میں آئے۔ انسان اس زمین پر آباد ہوا۔ پھر انسانوں کے درمیان ایسے ربانی افراد پیدا ہوئے جنھوں نے خدا کی خصوصی رہنمائی میں دنیا میں پیغمبرانہ مشن جاری کیا۔

ختم نبوت کے بعد تاریخ کا اگلا دور آیا۔ اس دور میں صلیبی جنگوں (1487-1096) کا سلسلہ چلا۔ اس درمیان ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے تحت سائنسی ترقیاں شروع ہوئیں۔ یہاں تک کہ جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی۔ اس تہذیب نے انسان کے اوپر ترقی کے وہ دروازے کھولے جو اگرچہ بالقوہ طور پر ہمیشہ سے موجود تھے لیکن بالفعل طور پر وہ بند پڑے ہوئے تھے۔ یہ تہذیب بظاہر ایک سیکولر تہذیب تھی، لیکن عملاً وہ پیغمبرانہ مشن کے موافق (pro-prophetic mission) تہذیب کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس تہذیب نے فطرت کے جو راز دریافت کیے، ان کو قرآن میں آفاق و انفس کا اظہار (فصلت: 53) کہا گیا ہے۔ یہ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے پیغمبر کے مشن کے لیے ایک مددگار تہذیب تھی۔ یہی وہ تاریخی واقعہ ہے جس کو حدیث میں تائید دین (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر (14640) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ جس خدا نے کائنات کی تخلیق کی۔ اسی خدا نے اپنی کتاب، قرآن کو انسان کے پاس بھیجا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تخلیق کے بارے میں خالق کا منصوبہ کیا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق، موجودہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے کہ یہاں انسان آزادانہ طور پر اپنا عمل کرے۔ انسان اپنے آپ کو ربانی شخصیت (Rabbani Personality) کی صورت میں ڈیولپ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues

Printed page