پیغمبر کا نمونہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۸
چھوڑ کر تشدد کے میدان میں اپنا عمل شروع کریں تو یہ پیغمبر کے نمونے کے سراسر خلاف ہوگا۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں فرعون نے یہ کیا تھا کہ وہ پیغمبر کا مقابلہ فوجی میدان کے بجائے پیں فل میدان میں کرے۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس مقابلے میں حضرت موسیٰ کو مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کی تصویر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ (7:117)۔ موجودہ زمانے میں اس نوعیت کا واقعہ زیادہ بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانے میں اقوام متحدہ (UNO) نے تمام قوموں کے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قومی تعلقات میں اب جنگ مکمل طور پر ایک متروک طریقہ (abandoned method) ہے۔ اب تمام قومی نزاعات کا فیصلہ صرف پر امن گفت و شنید (peaceful negotiation) کے ذریعے کیا جائے گا۔ معاملے کے کسی فریق کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ جنگ کے ذریعے تصفیہ کرنے کی کوشش کرے۔
ایسی حالت میں موجودہ زمانے کے اہل ایمان پر فرض کے درجے میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ جنگ کا طریقہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں۔ وہ ہر معاملے کو پر امن گفت و شنید کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کریں۔
موجودہ زمانے کے جو مسلمان جنگ کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ ایسا ہی ہے جیسے حضرت موسیٰ کے سامنے امن کا طریقہ کھلا ہوا تھا۔ مگر اس کو چھوڑ کر وہ یہ کہتے کہ میں تلوار کے ذریعے فرعون اور اس کے گروہ کا مقابلہ کروں گا۔ اگر حضرت موسیٰ ایسا کرتے تو ان کو اللہ کی مدد حاصل نہ ہوتی۔ کیوں کہ اللہ کی مدد اللہ کے طریقے کو اختیار کرنے پر آتی ہے، کسی اور طریقے پر نہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی کوششیں مسلسل طور پر ناکام ہو رہی ہیں۔ اس کا سبب یہی ہے کہ انھوں نے اپنی کوشش کے لیے اللہ کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اس لیے وہ اللہ کی مدد سے محروم ہوگئے۔ اگر مسلمان کامیابی چاہتے ہیں تو ان کو تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues