Al-Risala · February 2017 · page 9

امت کا دور زوال

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۹

امت کا دور زوال

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے : یوشک أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه، مساجدهم عامرۃ وهي خراب من الهدى، علماؤهم شر من تحت أديم السماء من عندهم تخرج الفتنة و فيهم تعود (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1763)۔ یعنی قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے جب کہ اسلام میں سے اس کا صرف نام باقی رہے، اور قرآن میں سے صرف اس کا نشان باقی رہے۔ ان کی مسجدیں آباد ہوں گی لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی ۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے سب سے بری مخلوق ہوں گے، ان سے فتنة نکلے گا، اور انھیں کی طرف فتنة لوٹے گا۔ یہ حدیثِ رسول اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہے۔ امت کے بعد کے دور کے بارے میں اس حدیث میں جو خبر دی گئی ہے، وہ اس وقت کی بات ہے جب کہ امت قانونِ فطرت کے مطابق زوال کا شکار ہو جائے گی۔ اس زمانے میں دین کا صرف فارم باقی رہے گا، اسپرٹ کے اعتبار سے امت کے افراد بالکل خالی ہو جائیں گے۔ اس زمانے کے علماء غلط فتوے دیں گے، اور غلط تقریریں کریں گے۔ اس کے نتیجے میں جو فساد برپا ہوگا، اس کا شکار پہلے عوام ہوں گے اور اس کے بعد خود علماء اس کی زد میں آجائیں گے۔

علماء کے غلط فتووں اور غلط تقریروں سے جو چیزیں پیدا ہوں گی ۔ ان میں سے ایک شدت پسندی (غلو) ہوگا۔ یہ غلو پہلے اعتقادی شدت کی شکل میں پیدا ہوگا۔ پھر بڑھتے بڑھتے امت کے افراد آپس میں لڑنے لگیں گے ۔ یہ آپس کی لڑائی مزید بڑھے گی ۔ یہاں تک کہ خود علماء اس کی زد میں آجائیں گے ۔ اس وقت علماء جاگیں گے ۔ مگر برائی اتنی بڑھ چکی ہوگی کہ ان کا جاگنا، نہ ان کے کچھ کام آئے گا، اور نہ دوسروں کو اس سے کچھ فائدہ حاصل ہوگا۔ یہ زوال ہر قوم پر آتا ہے۔ اس میں کسی قوم کا کوئی استثناء نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page