Al-Risala · December 2017 · page 27

رسول اور اصحابِ رسول

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۷

نے آنے میں دیر کر دی ۔ آپ کے چہرے پر غصہ ظاہر ہو گیا۔ اُم سلمہ نے پردے کے پیچھے جا کر دیکھا تو خادمہ کو کھیلتے ہوئے پایا۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں مسواک تھی۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اگر قیامت کے دن مجھے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا (لولا خشية القود يوم القيامة، لأوجعتك بهذا السواك) ۔ الادب المفرد للبخاری، حدیث نمبر 184 بدر کی جنگ 2 ہجری میں ہوئی۔ جو لوگ قیدی بن کر آئے وہ رسول اللہ کے بدترین دشمن تھے مگر آپ نے ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ ان قیدیوں میں ایک شخص سہیل بن عمر و تھا۔ وہ اپنی شاعری سے رسول اللہ کے بارے میں گستاخانہ تقریر کرتا تھا۔ حضرت عمر نے مشورہ دیا کہ اس کے سامنے والے دانت توڑ دیے جائیں تا کہ آئندہ یہ تقریر نہ کر سکے۔ لیکن آپ نے فرمایا: اگر میں ایسا کروں تو خدا میرا چہرہ بگاڑ دے گا اگر چہ میں خدا کا رسول ہوں (لا أمثل به فيمثل الله بي وإن كنت نبيا)۔ سیرة ابن هشام، 1/649 حسن بصری تابعی نے ایک بار اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا: میں نے 70 بدری صحابیوں کو دیکھا ہے۔ ان کا لباس زیادہ تر صوف کا ہوتا تھا۔ اگر تم ان کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ مجنون ہیں (مجانين)۔ اور اگر وہ تم کو دیکھتے تو کہتے کہ ان کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے (ما لهؤلاء من خلاق)۔ اور اگر وہ تمھارے بروں کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ لوگ حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتے (ما يؤمن هؤلاء بيوم الحساب)۔ حلیة الاولیاء و طبقات الاصفیاء، 2/134 عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ اصحاب رسول اس امت کے بہترین لوگ تھے وہ بہت اچھے دل والے، بہت گہرے علم والے اور تکلفات سے دور تھے (كانوا خير هذه الأمة، أبرها قلوبا، وأعمقها علما، وأقلها تكلفا)۔ حلیة الاولياء و طبقات الاصفياء، 1/305۔ رسول اور اصحاب رسول کی یہ زندگی اختیاری زندگی تھی، وہ کسی مجبوری کی بنا پر نہ تھی۔ یہی طریقہ بعد کے لوگوں کے لیے بھی نمونہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues

Printed page