تاریخ کا سفر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۲
تاریخ کا سفر
اللہ کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ رب العالمین ہے۔ ربِ یَرَبُّ کا مطلب عربی زبان میں ہوتا ہے: إنشاء الشيء حالا فحالاً إلى حد التمام (المفردات في غریب القرآن للراغب الاصفهانی، رب)۔ یعنی کسی چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دے کر اس کو کمال تک پہنچانا۔ رب العالمین کی اس صفت کا اظہار مادی کائناتی میں بھی ہوا ہے، اور انسانی تاریخ میں بھی۔ قرآن میں سات بار یہ بات کہی گئی ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو چھ دنوں (ستۃ ایام) میں پیدا کیا۔ چھ دنوں سے مراد چھ ادوار (six periods) ہیں۔ قرآن سے یا سائنس سے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ چھ ادوار سے مراد کیا ہے۔ لیکن قیاسی طور پر اس کا ایک نقشہ بیان کیا جا سکتا ہے۔
1- مادی کائنات کا غالباً پہلا دور وہ ہے جس کو قرآن میں اشارہ رتق اور فتق (الانبیاء: 30) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں دریافت ہونے والے اس عظیم کائنات واقعہ کو فریڈ ہائل (Fred Hoyle) نے بگ بینگ کا نام دیا ہے۔ اس کے مطابق کائنات اپنے آغاز میں ایک بہت بڑے ایٹم (super atom) کی شکل میں خلا میں پیدا ہوا۔ پھر اس گولے میں ایک دھما کہ ہوا۔ جس کے بعد اس گولہ کے تمام پارٹیکل وسیع خلا میں پھیل گئے اور دھیرے دھیرے موجودہ کائنات بنی۔
2 - دوسرا دور غالباً وہ ہے جس کو امریکی سائنسداں اَلَن بوس (Alan Boss) نے لٹل بینگ کا نام دیا ہے۔ یہ دور وہ ہے جو شمسی نظام (Solar System) سے شروع ہوا۔ یہ شمسی نظام ہماری قریبی کہکشاں (Milky Way) کے ایک کنارے پر واقع ہے۔ اس سے مراد وہ پوری دنیا ہے جس کو شمسی نظام کہا جاتا ہے۔ اسی نظام کے اندر ہماری زمین (planet earth) واقع ہے۔ 3- مادی دنیا میں غالباً پیش آنے والا تیسرا بڑا واقعہ وہ ہے جس کو واٹر بینگ کہا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues