Al-Risala · December 2017 · page 35

رہنمائی کا انتظام

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۵

اگر بیدار ہو تو وہ اپنے گرد و پیش کی دنیا میں ہر دن اپنے لیے خاموش رہنمائی پا سکتا ہے۔ رہنمائی کی تیسری سطح یہ ہے کہ خالق نے ہر زمانے میں اور ہر مقام پر اپنے پیغمبر بھیجے، جو لوگوں کو ان کی اپنی قابل فہم زبان میں فلاح کا راستہ بتاتے رہے۔ ساتویں صدی میں خالق نے آخری پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اور ان کے ذریعہ سے رہنمائی کی مستند کتاب (authentic book) بھیج دی۔ پیغمبر آخر الزمان کے بعد یہ رہنمائی اس طرح جاری ہے کہ ایک طرف قرآن اور پیغمبر کا اسوہ لفظی رہنمائی کی صورت میں موجود ہے۔ اور دوسری طرف اللہ کی توفیق سے زندہ رہنما برابر اٹھ رہے ہیں۔

اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن الله يبعث لهذه الأمة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4292) ۔ یعنی بے شک اللہ اس امت کے لیے ہر سو سال کے سرے پر ایسے افراد بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید (revival) کرتے رہیں گے۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیغمبر کی آمد کا سلسلہ شخصی معنوں میں ختم ہو جائے گا، مگر اس وقت بھی پیغمبرانہ رہنمائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ امت میں ایسے اہل علم افراد پیدا ہوتے رہیں گے جو اللہ کی توفیق سے امت اور عام انسانوں کو خدائی سچائی سے باخبر کرتے رہیں۔ ان مجددین اور ان کے ساتھیوں کی درست کارکردگی کی یہ ضمانت ہوگی کہ لوگوں کو ہمیشہ یہ موقع حاصل رہے کہ ایسے ہر فرد کے کام کو قرآن وسنت کی روشنی میں جانچیں، اور صرف اس رہنمائی کو قبول کریں جو قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق ہو۔ جو رہنمائی قرآن وسنت کے معیار (criterion) پر نہ اترے اس کو رد کر دیا جائے۔

اس تشریح کے مطابق ، انسانی تاریخ کا یہ سفر اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ توبہ واستغفار کر کے وہ عمل کریں جو آخرت میں ان کے کام آنے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues

Printed page