Al-Risala · December 2017 · page 36

تعارفی ماڈل

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۶

تعارفی ماڈل

ہر عورت اور مرد جو اس دنیا میں آتے ہیں، وہ فطری طور پر بہت سی خواہشات (desires) لے کر آتے ہیں۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ وہ ان خواہشوں کی تکمیل کرے، لیکن ہر انسان آخر میں محسوس کرتا ہے کہ ساری کوششوں کے باوجود وہ فل فلمنٹ (fulfilment) سے محروم رہا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسان کو اس کا اپنا ہیبیٹاٹ (habitat) نہیں ملا۔

انسان دیکھتا ہے کہ اس دنیا میں چڑیوں کو ان کا ہیبیٹاٹ ملا ہوا ہے، مچھلیوں کو ان کا ہیبیٹاٹ ملا ہوا ہے۔ لیکن انسان اپنے ہیبیٹاٹ سے محروم ہے۔ کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ ایک مکمل کائنات ہے۔ اس دنیا میں ہر طرف کامل ڈیزائن (design) ہے، اس دنیا میں ہر طرف اعلیٰ منصوبہ ہے، اس دنیا میں ہر طرف ذہانت کے نمونے ہیں۔ مگر انسان کا ہیبیٹاٹ وسیع دنیا میں کہیں موجود نہیں۔ اس معاملے کو دیکھ کر ایک سائنسداں نے کہا تھا کہ بظاہر انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے، جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی۔

It appears that the world was not made for him

انسان کا ہیبیٹاٹ بظاہر اس دنیا میں ایک گم شدہ آئٹم (missing item) ہے۔ اب اگر آپ اس نظر سے قرآن کا مطالعہ کریں تو آپ دریافت کریں گے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو اس گم شدہ آئٹم کی نشاندہی کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو قرآن کے علمی مطالعہ سے یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے۔ (ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب عظمت قرآن، صفحات (151) ۔ قرآن کے مطابق یہ گم شدہ آئٹم وہی ہے جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ اس لیے جنت کے بارے میں قرآن انسان کو خطاب کرتے ہوئے بتاتا ہے : اور تمہارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے (41:31)۔

مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ موجودہ سیارہ ارض (planet earth) میں وہ تمام آئٹم موجود ہیں،

‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues

Printed page