تصور دین
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۸
تصور دین
اسلام کی تاریخ، اپنے آغاز کے بعد تقریباً ہزار سال تک smoothly چلتی رہی۔ اٹھارویں صدی عیسوی سے اس میں خلل واقع ہوا۔ اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ حدیث کے الفاظ میں مسلمانوں کے اندر سیف (sword) داخل ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں سارا معاملہ جیوپرڈائز (jeopardize) ہوگیا۔ یہ سلسلہ اکیسویں صدی کے فرسٹ کوارٹر تک جاری ہے۔ امام مالک نے اپنے استاد صالح بن کیسان کے حوالے سے کہا تھا کہ اس امت کا آخری حصہ بھی اسی طریقہ کو follow کرنے سے درست ہوگا جس طریقے کو follow کرنے سے اس کا ابتدائی حصہ درست ہوا تھا (مسند الموطا للجوہری، اثر نمبر 783)۔ اس طریقے کو ایک لفظ میں منہج السلف کہا جاسکتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اسی منہج السلف کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ یہ منہج السلف کیا تھا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ عہد رسالت کے بعد اسلامی تاریخ میں عہد خلافت آیا۔ یہ دور اسلام میں گولڈن پیریڈ تھا۔ یہ دور تقریباً چالیس سال تک جاری رہا۔ یہ دور شوریٰ (الشوریٰ: 38) کے اصول پر قائم تھا۔ لیکن چالیس سال کے بعد مسلم دور خاندانی حکومت (dynasty) پر قائم ہو گیا۔ اس کے بعد مسلسل طور پر یہی دور جاری رہا۔ تمام علماء، سلف جن کو ہم اکابر کہتے ہیں۔ انھوں نے اس نظام کو قبول کر لیا۔ یہاں تک کہ ان کا اجماع ہو گیا کہ اس سیاسی نظام کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔
ایک اعتبار سے یہی منہج السلف تھا۔ سلف نے ایسا کیوں کیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ خاندانی حکومت کے تحت ایک چیز قائم ہو گئی جو عملًا حکومت کا اصل مقصد ہے۔ اس مقصد کو قرآن میں تمکین فی الارض (الحج : 41) کہا گیا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو سیاسی استحکام (political stability) کہا جاسکتا ہے۔
خاندانی نظام حکومت کے تحت جب سیاسی استحکام قائم ہوا تو پیس (peace) اور نارملسی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues