تصور دین
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۹
(normalcy) قائم ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں تمام دینی کام کسی رکاوٹ کے بغیر ہونے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ قرآن محفوظ ہوا، حدیث کی جمع و تدوین ہوئی، فقہ سے متعلق سارے کام انجام پائے، اسلامی علوم کی تمام بنیادی کتابیں لکھی گئیں ۔ مسجد اور مدرسہ اور حج کا نظام قائم ہوا۔ اسلام کی دعوت واشاعت مسلسل طور پر جاری رہی، وغیرہ۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خلافت راشدہ کے بعد اسلام میں ملوکیت آگئی، ان کا کہنا بلا شبہ غلط ہے۔ اس لیے کہ مسئلہ ظاہری ڈھانچے کا نہیں ہے، بلکہ معنوی پہلو کا ہے۔ حکومت سے اصل مقصود کسی ظاہری ڈھانچے کو قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ استحکام (stability) قائم کرنا ہے۔ کیوں کہ جب استحکام کی حالت قائم ہو جائے تو ہر قسم کا تعمیری کام کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کو قائم ہونے والا وہ دور جس کو خاندانی دور حکومت کہا جاتا ہے، تمام علمائے سلف نے قبول کر لیا، بلکہ اسی زمانے میں یہ مسئلہ بنا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔
اسلام میں اصل اہمیت مقصد کی ہے، نہ کہ ڈھانچے کی۔ ڈھانچہ خواہ کوئی بھی ہو، اگر شریعت کا مقصد حاصل ہو رہا ہے تو اس ڈھانچے کو درست کہا جائے گا۔ مقاصد شریعت کی فہرست میں خود ساختہہ اضافہ کر کے اگر کوئی شخص کہے کہ شریعت کا فلاں مقصد حاصل نہیں ہو رہا ہے تو یہ نظام ملوکیت کا نظام ہے، نہ کہ اسلام کا مطلوب نظام۔ تو اس کا ایسا کہنا قابل قبول نہ ہوگا۔ کیوں کہ مقاصد شریعت میں استنباطی اضافہ کرنا، بذات خود نا قابل قبول ہے۔
☆☆☆☆☆☆☆
ناریل کا درخت پورا کا پورا ایک عجیب قسم کا قدرتی کارخانہ ہے۔ اس کی ہر چیز مفید اور کار آمد ہے۔ ناریل کے درخت کی صفات اگر بیان کی جائیں تو پورا سفر نامہ اسی سے بھر جائے۔ ناریل کے جس خول کے اندر اس کا پانی رہتا ہے اس کی پیکنگ حیرت انگیز حد تک بامعنی ہوتی ہے۔ کئی تہ کے اندر یہ پانی ہوتا ہے۔ اس کے اوپر کا خول نہایت سخت ہوتا ہے۔ وہ بہت مشکل سے ٹوٹتا ہے۔ مگر اس نہایت سخت خول کے سرے پر حیرت انگیز طور پر ایک نرم سوراخ ہوتا ہے جو نہایت آسانی سے کھل جاتا ہے اور اس کے ذریعہ پانی نکال کر پیا جا سکتا ہے۔ یہ سوراخ اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک عاقل اور باشعور ہستی ہے۔ اس سوراخ میں جو حکمت ہے وہ باشعور خالق کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues