Al-Risala · December 2017 · page 42

رد عمل نہیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۲

رد عمل نہیں

جب کوئی بات آدمی کی پسند کے خلاف پیش آتی ہے تو ایسے موقع پر لوگ فوراً ردِ عمل (reaction) کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ یہ طریقہ غلطی پر غلطی کا اضافہ ہے۔ جب آپ ناپسندیدہ بات پر ردِ عمل (reaction) کا اظہار کریں تو اس کے بعد ہمیشہ جوابی ردِ عمل پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح ردِ عمل کا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے۔ یعنی چین ری ایکشن (chain reaction) ۔ اجتماعی زندگی میں یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ آپ ہر قیمت پر چین ری ایکشن سے اپنے آپ کو بچائیں، اور پھر آپ کی زندگی پر سکون زندگی بن جائے گی۔

یہ ایک حکمت کی بات ہے۔ اس حکمت کا تعلق فرد کی زندگی سے بھی ہے، اور اجتماع کی زندگی سے بھی۔ خاندانی زندگی سے بھی ہے اور سماجی زندگی سے بھی۔ ہر جگہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو پہلی غلطی سے نہیں بچاتے، اور جب آپ پہلی غلطی کر دیں تو اس کے بعد لازماً دوسری غلطی وجود میں آئے گی، اور پھر ایسا ہوگا کہ چین ری ایکشن کا سلسلہ قائم ہو جائے گا۔ جو صرف تباہی کی حد پر جا کر ختم ہوگا۔

مسلم قومیں تقریباً دو سو سال سے نفرت اور تشدد کا شکار ہیں۔ اس کا سبب کوئی خارجی دشمن نہیں ہے، بلکہ خود مسلم قوموں میں اعلیٰ حکمت (high wisdom) کی کمی ہے۔ ہر جگہ یہی ہو رہا ہے کہ لوگ پہلی غلطی کر کے چین ری ایکشن (chain reaction) کی صورت پیدا کر دیتے ہیں، اور جب چین ری ایکشن ایک بار وجود میں آجائے تو اس کے بعد وہ نان اسٹاپ جاری رہتا ہے۔ چین ری ایکشن کو پہلے مرحلے میں روک دیجیے، تو اس کے بعد سب کچھ اپنے آپ ٹھیک ہو جائے گا، لیکن اگر آپ ایسا نہ کریں تو اس کے بعد لازماً یہی ہوگا کہ چین ری ایکشن شروع ہو جائے گا، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ حتیٰ کہ اگر لوگ عملی طور پر اس کے قابل نہ رہیں تو وہ سوچ کی سطح پر اس برائی میں مبتلا ہو جائیں گے۔ آخری تباہی سے پہلے کبھی یہ برائی ختم نہ ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues

Printed page