کامیابی کا اصول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۳
کامیابی کا اصول
ایک مصنف نے لکھا ہے ۔ وقت اور سمجھ دونوں اکثر ایک ساتھ نہیں آتے۔ جب وقت آتا ہے تو سمجھ نہیں ہوتی ہے، اور جب سمجھ آتی ہے تو وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے اندر سمجھ پیدا کریں تا کہ وقت آئے تو آپ اس وقت کو استعمال کرنا جانیں ۔ یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے، لیکن عملی اعتبار سے وہ قابل عمل نہیں۔
اصل یہ ہے کہ انسان پیشگی طور پر باتوں کو سمجھ نہیں سکتا، وہ تجربہ کے ذریعہ سیکھتا ہے۔ یعنی نقصان پہلے آتا ہے، اور عقل اس کے بعد آتی ہے۔ پہلے آدمی کچھ کھوتا ہے، اس کے بعد وہ دریافت کرتا ہے کہ اس کو پانے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ انسان پہلے اپنے اندازہ (assessment) کی غلطی کا تجربہ کرتا ہے، اور اس کے بعد وہ اس فن کو جانتا ہے کہ صحیح اندازہ کا اصول کیا ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز یہ نہیں ہے کہ آدمی غلطی نہ کرے۔ بلکہ کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی سے سبق حاصل کرے۔ اس اعتبار سے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی نے اگر پہلے موقع کو کھویا ہے تو وہ اپنا نیا منصوبہ زیادہ بہتر انداز پر بنائے تا کہ وہ دوسرے موقع کو نہ کھوئے۔ اسی اصول کا نام پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان پہلے موقع کو ضر ور کھوتا ہے۔ دانش مند آدمی وہ ہے جو پہلے کھونے سے تجربہ حاصل کرے اور پھر زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ وہ دوسرے موقع کو حاصل (avail) کر سکے۔ وزڈم کی دو صورتیں ہیں ۔ آئئیل وزڈم (ideal wisdom) اور پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) ۔ آئئیل وزڈم اپنی ذات کے لیے درست ہے، لیکن اجتماعی زندگی میں آئئیل وزڈم قابل حصول نہیں۔ اس لیے زندگی کے لیے صحیح اصول یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کے معاملے میں آئئیل وزڈم کو اپنائے، لیکن جب معاملہ اجتماعی زندگی کا ہو تو وہ پریکٹیکل وزڈم پر راضی ہو جائے ۔ صبر در اصل اسی پریکٹیکل وزڈم کا نام ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues