ذہن کا متحرک ہونا
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۴
ذہن کا متحرک ہونا
ٹرگر (trigger) گن کا ایک پرزہ ہے، جس کو دبانے سے گن (gun) کا نظام نہایت تیزی کے ساتھ متحرک ہو جاتا ہے۔ اسی سے اس کا استعمال ذہن کے لیے ہونے لگا۔ یعنی فلاں واقعہ نے آدمی کے مائنڈ کو ٹرگر کر دیا۔ انسان کے اندر بڑی سوچ یا انقلابی سوچ ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ اس کا ذہن (mind) کسی واقعہ سے ٹرگر ہو جائے۔
مائنڈ ہر آدمی کے پاس ہوتا ہے، لیکن ہر آدمی کا مائنڈ ٹرگر نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مائنڈ کے ٹرگر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا ذہن تیار ذہن (prepared mind) ہو۔ جس آدمی کے اندر تیار مائنڈ ہو، اسی کے ساتھ یہ واقعہ ہوگا کہ کسی تجربہ کے پیش آنے پر اس کا مائنڈ ٹرگر ہو جائے، اور اس کے اثر سے وہ کوئی بڑا کام کر ڈالے۔
مثال کے طور پر مہاتما گاندھی 1893 میں بحری سفر کر کے بمبئی سے ساؤتھ افریقہ پہنچے۔ اس وقت ساؤتھ افریقہ میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ سخت سردی کے موسم میں رات کے وقت ان کو پیٹر مارٹسر برگ (Pietermaritzburg) اسٹیشن پر زبردستی اتار دیا گیا۔ اس واقعہ سے مہاتما گاندھی کا مائنڈ ٹرگر ہو گیا۔ انھوں نے خود لکھا ہے کہ اس واقعہ نے میری زندگی کا اگلا کورس متعین کر دیا۔ چناں چہ وہ انڈیا واپس آئے، اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں انقلابی رول ادا کیا۔
آدمی کوئی بڑا کام اس وقت کر پاتا ہے جب کہ اس کا مائنڈ ٹرگر ہو جائے۔ لیکن مائنڈ کا ٹرگر ہونا، ایک ایسا واقعہ ہے جو صرف ایک تیار ذہن کے ساتھ پیش آتا ہے۔ جس آدمی کا ذہن تیار ذہن نہ ہو، اس کو تجربات پیش آئیں گے لیکن اس کا مائنڈ ٹرگر نہ ہوگا۔ اس بنا پر وہ کوئی بڑا کام بھی نہ کر سکے گا۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اس معاملے میں کسی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو زندگی میں چیلنج کا پیش آنا ایک رحمت معلوم ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues