تاریخ کا سفر
الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۱۴
(earth پر آباد ہو گیا۔ بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تقریباً 13 بلین سال کے دوران تمام تخلیقی واقعات منصوبہ بند انداز میں پیش آئے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ آخر کار انسان کو پیدا کر کے اس کو زمین پر آباد کیا جائے۔ اور پھر انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی آزادانہ کوشش سے اس چیز کو وجود میں لائے جس کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے۔ تہذیب گویا محدود معنی میں کلمات اللہ ( 18:109) کی جزئی ان فولڈنگ (unfolding) تھی۔ فطرت کے اس طریق عمل کا یہ نتیجہ تھا کہ انسان کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی عقل کو اعلیٰ ارتقائی درجہ (high level of development) تک پہنچا سکے۔
موجودہ کائنات کے دو حصے ہیں، انسانی دنیا (human world) اور دوسرے غیر انسانی دنیا (non-human world)۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر انسانی دنیا خارجی طور پر بینچ کی جانے والی دنیا (externally managed world) ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی دنیا خود بینچ کی جانے والی دنیا (self-managed world) ہے۔ اب تاریخ ایک ایسےاعلی ترقی یافتہ دور (super developed world) کی طرف جا رہی ہے جہاں ماضی کے ریکارڈ کے مطابق غیر مطلوب انسانوں کو چھانٹ دیا جائے، اور مطلوب انسانوں کو الگ کر کے یہ موقع دیا جائے کہ وہ آئیڈیل ورلڈ میں ابدی راحت کی زندگی گزاریں۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے ــــ صادقین زمین کے وارث ہوں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے:
The righteous will inherit the land, and dwell in it permanently. (Psalm: 37:29)
بائبل میں مذکور اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (21:105) ــ یعنی اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ یہ دنیا پوری تاریخ بشری کے منتخب انسانوں کا معاشرہ ہوگا۔ یہ منتخب افراد دراصل دورِ ماضی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues