Al-Risala · January 2017 · page 8

تخلیق کے ادوار

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۸

اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے:

یہ وارثین ساری نسل انسانی کے صالح افراد ہوں گے، جن میں امت محمدی کے صالح افراد بھی یہ وڈیو سٹس ناموں کے ساتھ اورارادو ں شامل ہیں ۔

تخلیق کے ادوار

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق نے کائنات کو چھ ادوار (periods) کی صورت میں بنایا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں سات بار آیا ہے۔ ان آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ (32:4) ۔ یعنی اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو ان کے درمیان ہے، چھ دنوں میں۔

ان آیات میں چھ ایام سے مراد چھ ادوار (six periods) ہیں۔ دور کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کو بیک وقت دفعہ پیدا نہیں کیا گیا، بلکہ ان کو اسباب و علل (cause and effect) کی صورت میں پیدا کیا گیا۔ تخلیق کی یہ صورت اس لیے اختیار کی گئی تا کہ انسان اپنی عقل کی روشنی میں ان کا مطالعہ کر سکے ، اور تخلیق کی حکمت کو اپنے لیے ذہنی تشکیل کا سامان بنا سکے۔ انسانی علوم کے ذریعہ کائنات کا جو مطالعہ کیا گیا ہے، ان کو لے کر اگر ان چھ ادوار کو متعین کیا جائے تو یہ ہوگا :

(1) بگ بینک (big bang)

(2) لٹل بینگ (little bang) یا سولر بینگ (solar bang)

(3) واٹر بینگ (water bang)

(4) پلانٹ بینگ (plant bang)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page