Al-Risala · January 2017 · page 9

تخلیق کے ادوار

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۹

(5) اینیمل بینگ (animal bang)

(6) ہیومن بینگ (human bang)

یہ تاریخ کے چھ معلوم ادوار ہیں۔ سائنسی اندازے کے مطابق چھ ادوار کی یہ مدت تقریباً تیرہ بلین سال ہے۔ اس مدت میں موجودہ کائنات عدم سے وجود میں آئی، اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی موجودہ صورت میں بن کر تیار ہوئی۔ اس کے بعد انسان کی جو تاریخ بنی، اور جس طرح وہ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنا سفر طے کر رہی ہے، اس کا مختصر بیان یہاں درج کیا جاتا ہے۔ صراط مستقیم خالق کی مقرر کردہ ایک صراط مستقیم (right path) ہے، جو اس بات کی ضامن ہے کہ اس پر چلنے والا انسان اپنی مطلوب منزل پر ضرور پہنچے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ خالق نے مسلسل طور پر ایسا کیا کہ انسان کے پاس اپنے پیغمبر بھیجے، اور ان کے ذریعہ اپنی کتاب ہدایت بھیجی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان درست راستہ (right track) پر چلتا رہے، وہ اس سے بے راہ (derail) نہ ہونے پائے۔

ساتویں صدی عیسوی میں اللہ رب العالمین نے خاتم النبیین کو بھیجا۔ آپ نے اور آپ کے اصحاب نے غیر معمولی جدوجہد کے ذریعہ ایک ایسا انقلاب برپا کیا، جس کے ذریعہ بعد کے زمانے میں ایک تاریخی عمل (historical process) جاری ہو گیا۔ اس تاریخی عمل نے وہ مواقع کھولے، جن کے ذریعہ دنیا میں تہذیبی انقلاب (civilizational revolution) آیا۔ مادی تہذیب موجودہ زمانے میں ہم اپنے آپ کو جس تہذیب کے دور میں پاتے ہیں اس تہذیب کو عام طور پر مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک مادی تہذیب (material civilization) ہے۔ یہ مادی تہذیب خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ایک مقدر تہذیب تھی۔ اس مادی تہذیب کا پیشگی حوالہ قرآن کی اس آیت میں ملتا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page