Al-Risala · February 2017 · page 24

تکرار کی حقیقت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۴

تکرار کی حقیقت

قرآن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں مضامین کی تکرار ہے۔ اس موضوع پر بہت زیادہ کتابیں اور مضامین لکھے گئے۔ مثلا ایک مضمون یہ ہے : التكرار في القرآن الكريم أنواعه و فوائدہ ۔ یہ مقالہ ایک عرب عالم محمد صالح المنجد کا لکھا ہوا ہے، اور وہ انٹر نیٹ پر موجود ہے۔ مکررات القرآن کے بارے میں ابن تیمیہ نے لکھا ہے : ليس في القرآن تكرار محض، بل لابد من فوائد في كل خطاب ۔ (مجموع الفتاوى، 1995، مدینہ منورہ، 14/408) یعنی قرآن میں جو مکررات ہیں وہ تکرار محض نہیں، بلکہ ہمیشہ ہر تکرار میں کوئی فائدہ مطلوب ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ الفاظ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے محدود ہوتے ہیں، لیکن اپنی معنویت کے اعتبار سے کوئی لفظ محدود نہیں ہوتا۔ جب بھی کسی حقیقت کا بیان کیا جائے گا تو الفاظ میں اس کا بیان ہوگا، لیکن معنی کے اعتبار سے اس کے پہلو بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ظاہری الفاظ کے اعتبار سے خواہ کوئی بیان محدود نوعیت کا ہو۔ لیکن اپنے معنی کے اعتبار سے وہ متعدد پہلو کا حامل ہوگا۔ یہ متعدد پہلو ہمیشہ تدبر اور غور و فکر سے معلوم ہوتے ہیں۔ اس معاملے کی وضاحت قرآن کی ایک آیت سے ہوتی ہے : وَكَذَلِكَ أَنزَلْنَاهُ قُرْآنَا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا ۔ (20:113) یعنی اور اسی طرح ہم نے عربی کا قرآن اتارا ہے اور اس میں ہم نے طرح طرح سے وعید بیان کی ہے تا کہ لوگ ڈریں یا وہ ان کے دل میں کوئی سوچ ڈال دے۔ قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب قرآن میں کوئی بات مکرر بیان کی جائے تو اس کا پہلا مقصد یاد دہانی ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی بھولی ہوئی بات کو دوبارہ یاد کرے، اور اس میں سبق کا جو پہلو ہے وہ اس کو اپنے ذہن میں تازہ کرے۔ تکرار کا دوسرا مقصد وہ ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں احداث ذکر کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آدمی کے اندر سنجیدگی ہوگی تو وہ اس میں تدبر کرے گا، اس تدبر کے نتیجے میں یہ ہوگا کہ وہ اصل بات کے مزید پہلووں کو دریافت کرے گا۔ کیوں

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page