Al-Risala · February 2017 · page 23

قرآن وسنت کے عجائب

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۳

قرآن وسنت کے عجائب

حدیث کی کتابوں میں قرآن کے فضائل کے بارے میں ایک روایت نقل کی گئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: لا تنقضي عجائبه (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)۔ یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں عجائب کا لفظ کسی پر اسرار معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس معنی میں ہے کہ ہر صورتِ حال کے لیے قرآن میں ہمیشہ رہنمائی موجود رہے گی۔ یہی بات سنت رسول کے لیے بھی درست ہے۔ گویا اس حدیث کا پورا مفہوم یہ ہے: لا تنقضی عجائب القرآن والسنة (قرآن وسنت کے عجائب ات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ )

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، دنیا کے حالات ہمیشہ بدلتے رہیں گے۔ لیکن اہل علم کے لیے ہمیشہ یہ ممکن رہے گا کہ قرآن وسنت کی نئی تطبيقات (new applications) دریافت کر کے ہر صورتِ حال پر قرآن وحدیث کی تعلیمات کو منطبق کریں۔ وہ ہر بدلے ہوئے حالات میں قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔

یہ مزید رہنمائی اجتہاد کے ذریعے حاصل ہوگی۔ یعنی امت کے اہل علم ہر بار اجتہادی ذہن کے ساتھ غور وفکر کریں گے اور ہر بدلے ہوئے حالات میں قرآن کا انطباق (application) دریافت کر لیں گے۔ اس طرح امت کبھی ربانی رہنمائی سے خالی نہیں ہوگی۔ اجتہاد یقینی طور پر اس مسئلے کا حل ہے۔ لیکن اجتہاد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی ذہن کے ساتھ اجتہاد کرنا، اور دوسرا ہے تخلیقی ذہن کے ساتھ اجتہاد کرنا۔ تقلیدی ذہن کے ساتھ اجتہاد کا فائدہ محدود رہے گا۔ اجتہاد کا پورا فائدہ امت کو صرف اس وقت ملے گا جب کہ تخلیقی ذہن کے ساتھ اجتہاد کیا جائے۔

تخلیقی ذہن کے ساتھ اجتہاد یہ ہے کہ مجتہد کو ایک طرف قرآن وسنت کا علم ہو اور دوسری طرف وہ، حدیث کے مطابق، بصیرتِ زمانہ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر (361) کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ خالی الذہن ہو کر زمانے کے حالات سے واقفیت حاصل کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page