Al-Risala · February 2017 · page 43

غصہ کیوں آتا ہے

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۴۳

بیان کیا گیا ہے: تا کہ میں تم کو اس قرآن کے ذریعہ انذار کروں، اور جس کو پہنچے (وہ بھی قیامت تک انذار کا کام کرتا رہے)۔ الانعام: 19 سوال میں ماہ نامہ الرسالہ پچھلے دس برسوں سے مطالعہ کر رہا ہوں۔ مجھے اس مشن نے بہت اندر تک متاثر کیا ہے، اور مجھے بالکل بدل دیا۔ ایک مرتبہ میں نے آپ سے ملاقات اور انٹر ایکشن کیا تھا۔ اس وقت آپ نے مجھ سے الرسالہ کے متعلق فیڈ بیک مانگا تھا۔ لیکن میں اس وقت کچھ بول نہ پایا تھا۔ اب اس خط کے ذریعہ میں اسے لکھ رہا ہوں کہ میرے اندر الرسالہ کی وجہ سے کیا کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔ میری پیدائش 1989 میں ہوئی۔ نو سے پندرہ برس کی عمر تک میں نے گھر سے دور رہ کر مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد کالج سے گریجویشن اور ایم اے کیا۔ الرسالہ مشن سے جو فائدہ ہوا، ان میں سے چند یہ ہیں۔ (1) پہلا فائدہ جو الرسالہ نے دیا، وہ ہے اسلام کی روح سے متعارف کرانا۔ میں ایک تعلیم یافتہ گھر میں پیدا ہوا، دینی ماحول میں رہا، مدرسے میں وقت بتایا، مگر دین کو دریافت نہ کر پایا تھا۔ دین کے نام پر جو چیز پایا تھا وہ ہے منفی ذہن، شکایتیں، مسلک پرستی، اور قوم پرستی، وغیرہ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ صبر وشکر جیسی فنڈ امنٹل چیز بھی میں نہیں جان پایا تھا۔ یہ ماہ نامہ الرسالہ نے مجھے سکھایا۔ ماہ نامہ الرسالہ کی بات کو تحقیق کرنے کے لیے میں نے پورے قرآن کو پڑھا، اور ہزاروں احادیث پڑھی، تب جا کر مجھے یقین کے درجے میں صحیح اسلام حاصل ہوا۔ (2) دوسرا زبردست فائدہ یہ ہوا کہ میں نے دین کی سیاسی تعبیر کے انحراف کو سمجھا، اور نام نہاد مجاہد بن کر اپنی زندگی کو ہلاکت میں نہ ڈالا۔ ورنہ بچپن ہی سے مجھے جہاد کو اس طرح بتایا گیا تھا کہ گویا وہی اسلام کا اصل مشن ہے، اور وہی مسلمانوں اور اسلام کے مسئلہ کا حل ہے۔ (3) تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ آج آپ کی تعلیمات کی وجہ سے میں یقین (conviction) میں جیتا ہوں۔ جب میں مدرسہ سے نکلا تھا، نئے زمانے کی تبدیلیوں کو دیکھتا تھا، سمجھ نہیں پاتا تھا کہ سچائی کیا ہے۔ دل میں خدا، رسول اور آخرت کا یقین تو تھا، مگر ماڈرن ایج سے میں انھیں ریلیٹ (relate) نہیں کر پاتا تھا۔ اس کی وجہ سے میں

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page