Al-Risala · February 2017 · page 44

غصہ کیوں آتا ہے

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۴۴

کنفیوزن اور اسٹریس میں جیتا تھا۔ اس طرح میں نے پانچ برس تک گزارا۔ بڑی مشکل کا دور تھا۔ کیوں کہ میں ہر تھاٹ اور ہر ڈسپلن کو پڑھتا، مگر اس میں یقین نہیں پاتا تھا۔ لیکن خدا کے فضل سے میں نے ماہ نامہ الرسالہ کے ذریعہ ماڈرن ایج کو اسلام کے ریفرنس میں صحیح طور پر پالیا۔ مجھے اندھیرے سے اجالا ملا۔ مندرجہ بالا تبدیلیاں صرف علاماتی تبدیلیاں ہیں۔ ورنہ الرسالہ نے تو مجھے پوری طرح بدل دیا، سب کچھ بدل دیا۔ آئندہ ان شاء اللہ میں اپنا وقت اور پونجی دین کے کام میں صرف کروں گا۔ دعا کیجیے کہ میں دعوت کے کام کو اپنا مشن بنا پاؤں، خدا مجھے معاف کرے، میرا تزکیہ کرے، اور مجھے جنت نصیب کرے ۔ آخر میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ نے صحیح معنوں میں دین کا احیا کیا ہے۔ اللہ آپ کی اس عظیم ترین کوشش کو قبول کرے، اور آپ کو اس کا اعلیٰ ترین صلہ دے۔ آمین ۔ (محمد اظہر مبارک، بھاگل پور)

جواب

میرا تجربہ ہے کہ صرف فارمل تعلیم، علم کے حصول کے لیے کافی نہیں۔ خواہ وہ سیکولر تعلیم ہو یا دینی مدرسے کی تعلیم۔ فارمل تعلیم جواداروں میں ہوتی ہے، اس میں آدمی کسی دوسرے کی بتائی ہوئی باتوں کا علم حاصل کرتا ہے۔ مگر علم کا خزانہ اس سے بہت زیادہ ہے، جتنا کہ کسی بتانے والے نے آپ کو بتایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی فارمل ایجوکیشن کے بعد خود مطالعہ کرے۔ خود مطالعے سے آدمی، خود در یافت کردہ علم کو حاصل کرے گا۔ اور خود در یافت کردہ علم ہی سے آدمی کو حقیقی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

ایجوکیشن کی دو قسمیں ہیں، فارمل ایجوکیشن اور ان فارمل ایجوکیشن۔ الرسالہ مشن کی حیثیت ان فارمل ایجوکیشن کی ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ فارمل ایجوکیشن پائے ہوئے لوگوں کو ان فارمل ایجوکیشن مہیا کی جائے، تاکہ ان کی علمی کمی پوری ہو۔ دونوں طریقوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ دونوں تعلیمی طریقے ایک دوسرے کے لیے تکمیلی حصہ (complementary part) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں طریقوں کو ایک دوسرے سے تقویت حاصل ہوتی ہے۔ مثلا مدرسے کی تعلیم سے اگر دین کا روایتی علم

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page