Al-Risala · January 2018 · page 11

ٹکراؤ سے کامل پر ہیز

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۱

لوگ آپ کو ’آگ‘ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن آپ کا دل ان کی ہمدردی سے بھرا ہوا ہو۔ آپ ان کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اپنے آپ کو اللہ کی پکڑ سے بچاؤ۔ یہ ہے پیغمبرانہ حکمت۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ آپ کے دشمن بنیں، آپ ان کے خیر خواہ بن جائیں۔ جو لوگ آپ پر ظلم کریں، آپ اللہ سے ان کے لیے اچھے اجر کے طالب بن جائیں۔ جو لوگ آپ کو نہ دیں، آپ ان کے لیے دینے والے (giver) بن جائیں، اور ان کے لیے داعی بن کر ان کے ساتھ مدعو فرینڈلی روش اختیار کریں۔ پیغمبر اسلام کی یہ روش صرف ایک اخلاقی روش نہیں ہے، بلکہ وہ اعلیٰ درجے کی دانش مندی کا معاملہ ہے۔

ٹکراؤ سے کامل پر ہیز

پیغمبر اسلام جب مدینہ آئے تو وہاں دوسرے قبائل کے ساتھ یہود کے قبائل بھی آباد تھے۔ اس وقت مدینہ کی آبادی میں یہود تقريباً نصف حصہ تھے۔ وہ مدینہ کی معاشیات میں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ ایسی حالت میں یہود سے ٹکراؤ کا طریقہ آپ کے مشن کی راہ میں مستقل مسئلہ بن سکتا تھا۔ اس معاملے کے حل کے لیے آپ نے وہ اصول اختیار کیا جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ: 60) کہا گیا ہے۔ یعنی یہود کے ساتھ فرینڈلی بیہیویئر (friendly behaviour) کا طریقہ۔ اس مقصد کے لیے آپ آخری حد تک گئے۔ جیسا کہ معلوم ہے یہود کے لیے عبادت کا ایک قبلہ تھا، اور وہ قبلہ بیت المقدس تھا۔ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے تو آپ کا قبلہ کعبہ تھا، مگر مدینہ پہنچنے تو آپ نے بیت المقدس کو اپنے اور اپنے اصحاب کی عبادت کا قبلہ بنا لیا۔ ایسا آپ نے یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا۔ جیسا کہ قرآن کی سورہ البقرۃ کی آیت 143 کے تحت مختلف مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ یہود کی تالیف قلب کے لیے تھا، مثلاً تفسیر الرازی (4/89)، وتفسیر النسفی (1/138)، وغیرہ۔ تالیف قلب کا مطلب ہے دل کو نرم کرنا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے یہود سےقریبی تعلق جوڑتے ہوئے اپنا کام کرنا۔

یہ صرف یہود کا معاملہ نہیں۔ آپ نے اپنے مشن میں کبھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page