پرامن تعلقات
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۱۲
نے ہمیشہ یہ کیا کہ اپنے پڑوسی سے معتدل تعلقات رکھتے ہوئے اپنے مشن کا کام کرنا۔ آپ کا یہ طریقہ صرف عرب کے مشرکین کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ عرب کی سرحد سے باہر بھی جو لوگ آباد تھے، ان کے ساتھ بھی آپ نے یہی طریقہ اختیار کیا۔ یعنی پڑوسی قبائل اور پڑوسی ملکوں کو وفود بھیجنا۔ وفود بھیجنا، آج کل کی اصطلاح میں گڈویل مشن (goodwill mission) کی حیثیت رکھتا ہے۔
پرامن تعلقات
پیغمبر اسلام جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے۔ اس وقت مدینہ میں اسلام کافی پھیل چکا تھا۔ اس وقت آپ اپنے رفیق ابو بکر صدیق کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوئے تھے۔ چناں چہ مدینہ والوں نے آپ دونوں کا استقبال یہ کہہ کر کیا کہ آمنین مطاعین (مسند احمد، حدیث نمبر 12234)۔ یعنی آپ دونوں یہاں مامون ہیں، اور ہمارے سردار ہیں۔ مگر پیغمبر اسلام نے مدینہ میں اپنی حکومت نہیں قائم کی، بلکہ آپ نے ایک صحیفہ (Madinah Declaration) جاری کیا، جس میں یہ درج تھا کہ للیہود دینہم، وللمسلمین دینہم (سیرة ابن ہشام 1 / 503)۔ یعنی یہود کے لیے یہود کا دین ہے، اور مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کا دین۔ آج کل کی زبان میں اس کو پرامن بقائے باہم (peaceful co-existence) کہا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی پالیسی ہر صورت حال میں امن پسندی کی پالیسی ہوتی تھی۔ آپ نے کبھی اس کے خلاف عمل نہیں کیا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ پر امن بقائے باہم انسانی تعلقات میں سب سے بہتر اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اصول کو اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر فریق کو مساوی طور پر آزادی حاصل ہو جاتی ہے۔ ہر فریق کو یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ پر امن دائرے میں اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچتے ہوئے ہر ایک اپنا سفر حیات طے کرے۔
مخالف پہلو کو موافق پہلو بنانا
پیغمبر اسلام کی نبوت کے تیرہ سال بعد ہجرت کا واقعہ پیش آیا۔ یعنی پیغمبر اسلام نے اپنا وطن مکہ چھوڑ دیا، اور مکہ سے تقریباً 500 کلومیٹر دور مدینہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ آ کر آباد ہو گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues