الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۴
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۴
امت مسلمہ کا فائنل رول The Final Role of Muslim Ummah قرآن و حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کی تاریخ میں دو بڑے رول مقدر ہیں۔ ایک وہ رول جو اصحاب رسول کے ذریعہ انجام پایا۔ دوسرا وہ رول جس کے لیے حدیث میں اخوان رسول (مسند احمد، حدیث نمبر 12579) کے الفاظ آئے ہیں۔ تاریخ میں کوئی بڑا رول ہمیشہ لمبے تاریخی عمل کا نقطہ انتہا (culmination) ہوتا ہے۔ اصحاب رسول کا رول اس تاریخ کا نقطہ انتہا تھا، جو پیغمبر ابراہیم کے ذریعہ قدیم مکہ میں ساڑھے چار ہزار سال پہلے شروع ہوا، اور ساتویں صدی عیسوی میں اپنے نقطہ انتہا (culmination) کو پہنچا۔ اصحاب رسول وہ لوگ ہیں، جنھوں نے اس لمبے تاریخی عمل (historical process) کے ذریعہ پیدا ہونے والے حالات کو اپنی غیر معمولی جدوجہد کے ذریعہ اويل (avail) کیا۔
رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ تاریخ کا دوسرا عمل (process) شروع ہوا۔ یہ دوسرا تاریخی عمل مختلف حالات سے گزرتا ہوا، بیسویں صدی میں اپنے نقطہ انتہا تک پہنچا۔ ماڈرن سیویلائزیشن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی تکمیلی مرحلہ کا نام ہے۔ وہ تکمیلی مرحلہ جس میں توحید کے مشن کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ آفاق وانفس کی آیات (فصلت : 53) بالفاظ دیگر سائنس کی دریافت کردہ دلائل ظاہر ہوں، جس کے ذریعہ توحید کو نا قابل انکار حقائق کی روشنی میں لوگوں کے لیے مبرھن کیا جاسکے۔ مواقع کو پہچاننے میں ناکامی بیسویں صدی میں وہ وقت پوری طرح آچکا تھا، جب کہ امت مسلمہ سے مطلوب تھا کہ وہ نئے پیدا شدہ حالات کو پہچانیں، اور نئے مواقع کو اويل کرتے ہوئے اس کام کو انجام دیں، جس کو قرآن میں آفاق وانفس کی سطح پر اعلیٰ تبیین حق (فصلت : 53) کا رول کہا گیا ہے۔ بظاہر یہی وہ رول تھا جس کو حدیث میں اخوان رسول کا رول بتایا گیا تھا۔ لیکن عین اسی وقت ایک برعکس واقعہ ظاہر
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues