الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۵
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۵
ہوا۔ یہ واقعہ غالباً وہی تھا جس کو حدیث میں فتنة دھماء کہا گیا ہے۔ یہ فتنه دھماء (سیاہ فتنہ ) ایک ایسا عمومی فتنہ ہو گا جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ثم فتنة الدہیماء، لا تدع أحدا من هذه الأمة إلا لطمته لطمة (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4242)۔ یعنی پھر دھیماء کا فتنہ ہوگا، اور وہ اس امت میں سے کسی ایک فرد کو بھی نہیں چھوڑے گا مگر وہ اس کو ہٹ (hit) کرے گا۔ اس حدیث میں لطمہ سے مراد غالباً لطمہ نفرت ہے۔ یعنی اس فتنہ کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہوگا کہ امت کا ہر فرد اس سے شدید طور پر متاثر ہو جائے گا۔ وہ ہر فرد امت کو نفرت کا کیس بنا دے گا۔ یہ حادثہ اس طرح پیش آئے گا کہ جو مغربی قو میں حدیث کے الفاظ میں موید دین بن کر ابھریں گی، ان کے ساتھ ایک اور اتفاقی پہلو شامل ہوگا۔ وہ یہ کہ یہ مغربی قو میں ایک طرف موید دین تہذیب لے کر ظاہر ہوں گی، لیکن اسی کے ساتھ ان کی دوسری حیثیت یہ ہوگی کہ وہ اس سیاسی کلچر کی حامل ہوں گی، جس کو نو آبادیاتی نظام (colonialism) کہا جاتا ہے۔ نو آبادیاتی نظام ایک اتفاقی سبب (chance factor) کی بنا پر اس تائیدی تہذیب کا حصہ ہوگا۔ مگر مسلم رہنما دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی پالیسی (delinking policy) اختیار نہ کر سکیں گے، اور سیاسی اختلاف کی بنا پر خود تائیدی تہذیب کے دشمن بن جائیں گے۔ مسلمانوں کا یہ مزاج اتنا زیادہ بڑھے گا کہ امت کا کوئی فرد اس کی زد میں آنے سے محفوظ نہ رہے۔
اس کیفیت کو اگر نئے اصطلاح میں بیان کیا جائے تو اس کو ویسٹوفوبیا کہا جا سکتا ہے۔ یہی مغربی قو میں تھیں، جنھوں نے ایک طرف ماڈرن تہذیب کو وجود دیا، اور دوسری طرف یہی وہ قو میں تھیں، جو بعد کو نو آبادیاتی طاقتوں (colonial powers) کے نام سے ابھریں۔ انھوں نے ایک کے بعد ایک تمام مسلم سلطنتوں کو ختم کر دیا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مسلمان عمومی پیمانے پر سیاسی محرومی کا شکار ہو گئے۔ قدیم زمانے میں اس طرح کا واقعہ مقامی خبر (local event) بن کر رہ جاتا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں جدید میڈیا کی بنا پر یہ سیاسی واقعہ اتنا پھیلا کہ کوئی مسلمان اس "حادثہ" سے بے خبر نہ رہا۔ چنانچہ ہر مسلم مرد اور عورت مغرب سے متنفر ہو گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues