امت مسلمہ کی ذمہ داری
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۸
ہو گئے۔ موجودہ زمانے میں ویسٹوفوبیا کی بنا پر مسلمانوں کو دو بڑے نقصان اٹھانے پڑے۔ یہ ایک ایسی محرومی ہے جس سے بڑی کوئی محرومی مسلم امت کے لیے نہیں ہوسکتی۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ مغربی قوموں کو اپنا دعوتی مخاطب نہ بنا سکے۔ کیوں کہ نفرت اور دعوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ جہاں نفرت ہوگی، وہاں دعوت کا ذہن نہیں ہوگا، اور جہاں دعوت کا ذہن ہوگا، وہاں نفرت کی نفسیات ختم ہو جائے گی۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ مغرب جدید تہذیب کا چیمپین تھا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان مغرب سے متنفر ہونے کی بنا پر جدید تہذیب سے متنفر ہوگئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جدید تہذیب کے ذریعہ جو نئے مواقع (opportunities) کھلے تھے، وہ مسلمانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے ۔ اس بنا پر مسلمان موجودہ زمانے میں ایک پچھڑا ہوا گروہ (backward community) بن کر رہ گئے۔
امت مسلمہ کی ذمہ داری
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن) اتارا تا کہ وہ سارے عالم کے لئے خبر دار کرنے والا بنے ۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اس وقت پیشین گوئی (prediction) کی زبان میں یہ اعلان کیا گیا کہ قرآن سارے عالم میں پھیل جائے گا، یہاں تک کہ اس کا پیغام زمین پر بسنے والے ہر مرد اور ہر عورت تک پہنچ جائے گا۔ یہی بات حدیث رسول میں اس طرح بیان کی گئی ہے: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی زمین پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔ یہ حدیث رسول پیشگی خبر کی زبان میں یہ بتا رہی ہے کہ آخری دور میں امت کا فائنل رول کیا ہوگا۔ وہ رول یہ ہوگا کہ امت اپنے زمانے کے اعتبار سے ایک عالمی منصوبہ بندی کرے، اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے کلام (word of God) کو دنیا کے ہر گوشے میں پہنچادے۔ یہاں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues