Al-Risala · March 2018 · page 7

ویسٹو فوبیا

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۷

حدیث نمبر 14640)۔ صلیبی جنگوں کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مغربی قو میں جنگ کے میدان سے ہٹ کر تسخیرِ فطرت کے میدان میں آگئیں۔ یعنی انھوں نے فطرت کے ان اسرار کو دریافت کرنا شروع کیا، جن کو قرآن میں آیات (signs) کہا گیا ہے۔ اس معاملے کی پیشین گوئی قرآن میں کر دی گئی تھی۔ قرآن میں یہ بتایا گیا تھا کہ مستقبل میں ایسا ہوگا کہ آفاق وانفس کی نشانیاں بڑے پیمانے پر ظاہر ہوں گی، اور وہ حق کی اعلیٰ تبیین کا رول انجام دیں گی (فصلت : 53)۔ حق کی تبیین کا کام انجام پانا، اپنے آپ میں یہ معنی رکھتا ہے کہ کوئی گروہ ہوگا، جو حق کی تبیین کا یہ کام انجام دے۔ تمام قرائن یہ بتاتے ہیں کہ حق کی تبیین کا یہ کام انجام دینے والے وہی گروہ تھے، جن کو اہل مغرب کہا جاتا ہے۔ رموز فطرت کی اس تسخیر کو موجودہ دور میں فطرت کے قوانین (laws of nature) کی دریافت کہا جاتا ہے۔ ان دریافتوں نے تاریخ میں پہلی بار اہل ایمان کو یہ موقع دیا تھا کہ وہ اسلام اور قرآن کی صداقت کو انسان کے مسلمہ عقلی معیار کی سطح پر ثابت کریں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں تبیین حق کہا گیا ہے۔ مگر مسلمان اس عمل کی انجام دہی میں کامل طور پر ناکام رہے۔ اس کا سبب تھا— مغرب یعنی مؤید دین سے نفرت۔

مسلمان جس مغرب سے متنفر ہوگئے تھے، وہ وہی موید دین تھے جن کی پیشین گوئی حدیث میں کر دی گئی تھی۔ مگر نفرت کی نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمان خود اپنے حامیوں سے بے خبر ہوگئے۔ مسلمانوں کے اندر مغرب کے خلاف نفرت کلچر (anti-West culture) کا مزاج اتنا زیادہ بڑھا کہ وہ یہ سوچ ہی نہیں سکے کہ اہل مغرب وہ لوگ ہیں جن کو حدیث میں پیشگی طور پر دین کے مؤیدین کہا گیا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو ایک لفظ میں ویسٹو فوبیا (westophobia) کہا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کے اندر یہ ویسٹو فوبیا اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے کہ مسلمان صرف نفرت مغرب کو جانتے ہیں، وہ تائید مغرب سے بالکل بے خبر ہیں۔ شاید آج کی دنیا میں کوئی ایک مسلمان بھی نہیں ملے گا، جو اس ویسٹو فوبیا یا مغرب سے نفرت کا شکار نہ ہوا ہو۔

اس کے نتیجہ کے طور پر یہ ہوا کہ مسلمان اپنی تاریخ کی سب سے بڑی محرومی کے شکار

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page