اہلِ اسلام کا کنٹری بیوشن
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۱۴
کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کریں ، اور اپنی کوشش کسی دوسرے میدان میں جاری رکھیں ۔ چناں چہ انھوں نے میدانِ جنگ کے بجائے قوانینِ فطرت (laws of nature) کے دریافت کی طرف بتدریج اپنی کوششوں کو ڈائیورٹ (divert) کر دیا۔ اٹلی کے سائنسداں گلیلیو گلیلی (وفات: 1642ء) کو فادر آف ماڈرن سائنس (the father of modern science) کہا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہی وہ پہلا سائنس داں تھا جس سے ماڈرن سائنس کا سفر باقاعدہ صورت میں شروع ہوا۔ یہ عمل تقریباً چار سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ بیسویں صدی میں انسان کو وہ تمام سائنٹفک ڈیٹا حاصل ہو گئے ، جو خالق کو سائنسی سطح یا ریشنل لیول پر دریافت کے لیے ضروری تھے۔ اللہ نے جس عالم کو تخلیق کیا، اس کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔ پھر اس نے اس علم سے فرشتوں کو واقف کرایا۔ اس کے بعد اس نے اس حقیقت کو چھپے طور پر (hidden form) اس کائنات میں رکھ دی، جس کو انسان خود سے دریافت کر سکتا تھا۔ یہی وہ چھپی حقیقت ہے جو دریافت کے بعد ماڈرن سائنس کے نام سے جانی جاتی ہے۔
اہلِ اسلام کا کنٹری بیوشن
اب اہلِ ایمان کے لیے جو کرنے کا کام تھا ، وہ یہ تھا کہ وہ سائنٹفک معلومات کو اسلام کے لیے استعمال کریں۔ وہ سائنٹفک معلومات (scientific knowledge) کو استعمال کر کے اپنی معرفت کو نئی مطلوب سطح تک پہنچا دیں، اور دوسروں کے لیے بھی اس معاملے میں رہنمائی کا رول ادا کریں۔ مگر تاریخ دیکھتی ہے کہ اہل اسلام اس معاملے میں مکمل طور پر نا کام ہو گئے۔ بیسویں صدی کے پورے دور میں پوری مسلم دنیا میں بظاہر ایک شخص بھی نظر نہیں آتا جس کو اس کام کا واضح شعور ہو ، اور اس نے اس کام کو مطلوب صورت میں انجام دیا ہو۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مسلمان اس عظیم امکان سے مکمل طور پر بے خبر رہے۔ انھوں نے اس حقیقت کو جانا ہی نہیں کہ اللہ نے تاریخ کو پیچ کر کے اس درجہ تک پہنچایا ہے کہ فطرت میں چھپی ہوئی آیات اللہ (signs of God) دریافت ہو کر سامنے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues