Al-Risala · March 2018 · page 15

اہلِ اسلام کا کنٹری بیوشن

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۱۵

آ گئی ہیں۔ اس دریافت کا کام اہل مغرب نے نہایت اعلیٰ سطح پر انجام دے دیا ہے۔ اب مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس سائنسی دریافت کو بھر پور طور پر دین خداوندی کی تائید کے لیے استعمال کریں۔ اس معاملے میں اب عملاً مسلمانوں کا کام بنیادی طور پر سیکنڈری ہے، نہ کہ پرائمری۔ اس معاملے میں غالباً امت کی سطح پر مسلمانوں کے کسی براہ راست کنٹری بیوشن کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔ بظاہر چند افراد نے اس موضوع پر کچھ کام کیا ہے، لیکن وہ اصل مطلوب کی حیثیت سے کوئی قابل ذکر کام نہیں نظر آتا ہے۔ البتہ کچھ مسلم مترجمین نے مسیحی اہل علم کی کتابوں کے ترجمے کیے ہیں، جو یقیناً اس معاملے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک قابل ذکر کتاب وہ ہے جو چالیس مغربی سائنس دانوں کے مقالات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب انگریزی میں مندرجہ ذیل ٹائٹل کے ساتھ شائع ہوئی ہے:

The Evidence of God in an Expanding Universe (G. P. Putnam's Sons, 1958)

یہ کتاب اس موضوع پر ایک اہم کتاب ہے۔ اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کا عربی ٹائٹل یہ ہے: اللہ یتجلی فی عصر العلم (مترجم: الدمرداش عبد المجید سرحان، مؤسسة الحلبى وشركاه للنشر والتوزيع (1968)۔ راقم الحروف اپنے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اسی کام کو اپنا اصل موضوع بنایا۔ وسیع مطالعے کے بعد میں نے اس موضوع پر بہت سے مقالے اور کتابیں شائع کیں ۔ ان میں سے ایک بڑی کتاب وہ ہے جو اردو زبان میں مذہب اور جدید چیلنج کے نام سے 1966 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کیا، وہ پہلی بار قاہرہ سے 1976 میں چھپی۔ یہ 196 صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد اس کے بہت سے ایڈیشن بار بار شائع ہوتے رہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ، گاڈ ارائزز (God Arises) کے نام سے ڈاکٹر فریدہ خانم نے کیا۔ یہ کتاب 1987 میں پہلی بار دہلی سے چھپی۔ مسیحی اہل علم نے اس موضوع پر بلاشبہ قابل قدر کام کیا ہے۔ انھوں نے اس موضوع پر بڑی تعداد میں مقالے اور کتابیں شائع کی ہیں، جو بلاشبہ ہمارے لیے تائیدی سرمایے کی حیثیت رکھتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page