حق کیا ہے
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۱۸
کی ریسرچ کے ذریعہ شروع ہوا، جب کہ گلیلیو گلیلی نےمشاہداتی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ زمین شمسی نظام کا سینٹر نہیں ہے، بلکہ وہ سورج کا ایک سیارہ (satellite) ہے۔ اس کے بعد 1969 میں نیل آرم اسٹرانگ (2012-1930) خلائی سفر کر کے چاند کی سطح پر پہنچا۔ اس نے بتایا کہ چاند کوئی روشن چیز نہیں، وہ بے نور پتھروں کا ملبہ ہے۔ اس کی روشنی اپنی نہیں، وہ سورج کے ریفلیکشن سے چمکتا ہے۔ اس کے بعد انسان نے بڑی بڑی رصد گاہیں بنائیں، اور بڑے پیمانے پر ریسرچ کیا۔ اس کے ذریعہ حتمی طور پر یہ معلوم ہو گیا کہ ستارے جو آسمان میں نظر آتے ہیں، وہ سب کے سب آگ کے ٹکڑے ہیں، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اس طرح سائنسی ریسرچ نے مشاہداتی بنیاد پر یہ بتایا کہ خلا (space) میں جتنے بھی اجسام (bodies) ہیں، وہ سب کے سب یا تو آگ کے انگارے ہیں، یا پتھر کے ٹکڑے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ مظاہر فطرت کی معبودیت کا تصور تمام تر توہم پرستی (superstition) کی بنیاد پر قائم تھا۔ سائنس نے توہم پرستی کے دور کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مظاہر پرستی کا دور علمی طور پر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں آفاق کی آیات کے ذریعے بتائی گئی ہے۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں انفس کی نشانیوں کے ذریعہ حق کی تبیین ہوگی۔ انفس سے مراد انسان ہے۔ آیات انسان سے کس طرح حق کی تبیین ہوتی ہے۔ اس کا اشارہ ایک حدیث میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا: خلق الله آدم علی صورته (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6227)۔ یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ایک ایسا وجود ہے جس کا مطالعہ کر کے خالق کی پہچان حاصل ہوتی ہے۔ انسان کے اندر وہ تمام صلاحیتیں چھوٹی سطح پر پائی جاتی ہیں، جو خالق کے اندر اعلی سطح پر موجود ہیں۔ کائنات پوری کی پوری ایک مادی کا ئنات ہے۔ مگر کائنات کے اندر ایک ہستی ایسی پائی جاتی ہے، جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ انسان کے اندر دماغ (Mind) ہے، انسان دیکھنے اور سننے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ اپنے ارادے سے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues