Al-Risala · March 2018 · page 19

I think, therefore, I am

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۸، صفحہ ۱۹

کام کرتا ہے، انسان واحد مخلوق ہے جس کے اندر میں (I) کا شعور پایا جاتا ہے، غالباً اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ (75:14)۔ یعنی انسان اپنے وجود کو دریافت کرکے خالق کی دریافت تک پہنچ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (René Descartes) نے انسان کے وجود پر غور کیا۔ اس نے کہا کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں :

I think, therefore, I am

اس اصول کی توسیع کرتے ہوئے یہ کہنا درست ہوگا کہ میں ہوں اس لیے خدا بھی موجود ہے : I am, therefore, God is اکیسویں صدی خالق کی تخلیقی اسکیم (creation plan) ہمیشہ سے ثابت شدہ حقیقت تھی۔ لیکن بیسویں صدی کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آیا ہے۔ جب کہ نظری حقیقتیں، مادی حقائق کی روشنی میں قابل فہم (understandable) بن گئیں۔ مثلاً غیب پر ایمان قدیم زمانے میں ایک عقیدہ کی بات تھی۔ موجودہ زمانے میں کوانٹم فزکس (quantum physics) کی دریافت کے بعد یہ صرف نظری بات نہ رہی، بلکہ پراببیلیٹی (probability) کے درجے میں تقریباً قابل یقین حقیقت کے درجہ تک پہنچ گئی۔ پراببیلیٹی جدید سائنس کا ایک اہم اصول ہے۔ کہا جاتا ہے: Probability is less than certainty, but more than perhaps موجودہ زمانے میں جن چیزوں کو سائنسی حقیقت (scientific fact) کہا جاتا ہے، ان سب کا معاملہ یہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک پراببیلیٹی کے درجے میں مسلمہ حقیقت بنی ہیں، نہ کہ مشاہدہ کے درجے میں ۔ یہی معاملہ مذہبی عقائد یا تصورات کا ہے۔ اس زمانے میں مذہبی تصورات اسی تسلیم شدہ درجے میں ثابت شدہ بن چکے ہیں، جس درجے میں مسلمہ سائنسی حقائق۔ اہل علم کی شہادت زیر نظر موضوع سے متعلق قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2018 All issues

Printed page